"اصلاحی مشین" صرف ان انسانوں
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۴۶
حویطیب بن عبد العزی، فتح مکہ کے بعد، بیعت کرنے کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے اپنے قدیم ساتھی ابو ذرغفاری سے پوچھا، آپ کو سلام کس طرح کیا جاتا ہے۔ (کیف يقال اذا اسلم عليه) انھوں نے کہا، جب تم آپ کے پاس حاضر ہو تو اس طرح کہو۔ السلام عليك ايها النبی ورحمة وبركاته۔ یہ پیغمبر کا کام نہیں کہ وہ ہر ایک سے یہ بتائے کہ وہ کس طرح اس کو مخاطب کریں، یہ وہ کام ہے جو آپ کے ساتھیوں کو خود سے جاننا چاہئے۔
اہل نجران کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب ملا تو انھوں نے غور و فکر کے بعد آپ کے پاس اپنا وفد بھیجا تاکہ وہ آپ سے صلح کی دفعات طے کرے۔ وہ مدینہ پہنچے تو انھوں نے اپنا سادہ سفری لباس تبدیل کیا اور ریشمی کپڑے اور سونے کی انگوٹھیاں پہن کر آپ سے ملنے کے لئے آئے۔ انھوں نے سلام کیا تو آپ نے ان کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ وہ دیر تک آپ کے پاس بیٹھے رہے مگر آپ نے ان سے کوئی کلام نہ کیا۔ اس کے بعد وہ حضرت عثمان اور حضرت عبد الرحمن بن عوف سے ملے جن سے ان کی پہلے سے ملاقات تھی۔ ان لوگوں نے معاملہ کو سنا تو حضرت علی کو بلا کر مشورہ کیا۔ حضرت علی نے فرمایا کہ یہ لوگ اپنے مزین کپڑے اور سنہری انگوٹھیوں کو اتار دیں اور اپنے سفری لباس پہن کر آپ کے پاس جائیں۔ چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ اب آپ نے سلام کا جواب دیا اور ان سے بات چیت کی اور فرمایا:
والذی بعثنی بالحق لقد اتونی المرة الأولی وان ابلیس معهم اس خدا کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے، جب وہ پہلی مرتبہ میرے پاس آئے تو ان کے ساتھ شیطان تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ لباس فاخرہ کے ساتھ آپ کے پاس آئے تو آپ نے محسوس کیا کہ یہ چیزیں ان کے اندر احساسِ برتری پیدا کریں گی۔ ان کی متکبرانہ نفسیات کسی نتیجہ خیز گفتگو میں مانع ہوگی۔ مگر یہ بات آپ خود اپنی زبان سے نہیں کہہ سکتے تھے۔ حضرت علی نے اس حقیقت کو جانا اور اپنا کردار ادا کیا۔
سعد بن معاذ انصاری مدینہ کے ممتاز ترین شخصیت رکھنے والے آدمی تھے تھے(كان من اعظم الناس واطولهم امام احمد نے حضرت عائشہ کی روایت نقل کی ہے کہ غزوہ خندق میں وہ زخمی ہوئے۔ ابن العرقہ قریشی نے تیر مارا جس سے ان کی رگ اکحل کٹ گئی۔ اس وقت ان کی زبان سے دعا نکلی : اللهم لا تمتنى حتی تقر عینی من بنی قريظة خدایا مجھے موت نہ دے جب تک بنی قریظہ سے میری آنکھیں ٹھنڈی نہ ہو جائیں ۔
بنو قریظہ ایک یہودی قبیلہ تھا جو مدینہ کے اندر آباد تھا۔ وہ مسلمانوں کے خلاف مستقل سازشوں میں مشغول رہتا تھا۔ غزوہ خندق میں انہوں نے کھل کر قریش کا ساتھ دیا۔ یہ صریح طور پر ایک غداری کا فعل تھا۔ چنانچہ غزوہ خندق سے فارغ ہوتے ہی آپ نے ان کے قلعہ کو گھیر لیا۔ ۲۵ دن کے محاصرہ کے بعد انہوں نے کہا کہ سعد بن معاذ جو
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues