Al-Risala · April 1977 · page 47

"اصلاحی مشین" صرف ان انسانوں

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۴۷

فیصلہ کر جس ہم کو منظور ہے۔ سعد بن معاذ اسلام سے قبل ان کے حلیف تھے۔ وہ زخمی حالت میں خچر پر سوار کرکے لائے گئے۔ سعد بن معاذ نے تو رات کے مطابق فیصلہ کیا کہ ان کے قابل جنگ مردوں کو قتل کر دیا جائے۔ ان کی اولاد کو گرفتار کر لیا جائے اور ان کے اموال کو ضبط کر لیا جائے۔ اس کے بعد انھوں نے دعا کی :

اللهم ان كنت ابقيت علی نبياك من حرب قريش شيئا فابقني لها وان كنت قطعت الحرب بينه و بينهم فاقبضنی اليك خدایا ! اپنے نبی کے ساتھ قریش کی جنگ میں اگر تو نے کوئی حصہ باقی رکھا ہو تو مجھے اس کے لیے باقی رکھ۔ اور اگر تو نے ان کے درمیان جنگ کو ختم کر دیا ہو تو مجھے اپنے پاس بلا لے ۔

اس دعا کا پس منظر یہ تھا کہ سعد بن معاذ اپنی شخصیت اپنی تاریخ اور یہود سے اپنے تعلق کی بنا پر مدینہ کے واحد شخص تھے جو ان کے اوپر اس قسم کے فیصلے کے لیے موزوں ہو سکتے تھے ، انھوں نے سوچا کہ میں آپ کے اس کام کو انجام دے لوں اس کے بعد اس دنیا سے جاؤں۔ میرے بعد کوئی دوسرا موزوں شخص اس کام کے لئے نہ ہو گا ۔ کس قدر با شعور تھے رسول اللہؐ کے یہ اصحاب !

آدمی اسی چیز کو کھو دیتا ہے جس کو وہ پانا چاہتا ہے ابن عبد البرنے استیعاب میں قتادہ کی روایت نقل کی ہے۔ عمر فاروق ؓ کہیں جا رہے تھے۔ راستہ میں ان کو ایک بڑھی خاتون ملیں۔ آپ نے ان کو سلام کیا۔ سلام کا جواب دینے کے بعد وہ بولیں: ” اے عمر! ، ایک وقت تھا جب میں نے تم کو بازارِ عکاظ میں دیکھا تھا۔ اس وقت تم عمیر کہے جاتے تھے۔ لاٹھی ہاتھ میں لئے بکریاں چراتے پھرتے تھے۔ پھر زیادہ مدت نہیں گزری تھی کہ تم عمرؓ کہے جانے لگے۔ پھر ایک وقت آیا کہ تم امیر المومنین کہے جاتے ہو۔ دیکھو رعیت کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہو اور یاد رکھو کہ جو اللہ کی وعید سے ڈرتا ہے ، اس کے لئے دور کا آدمی بھی قریبی رشتہ داروں کی طرح ہوتا ہے اور جو موت سے ڈرتا ہے ، اس کے حق میں اندیشہ ہے کہ وہ اسی چیز کو کھودے گا جسے وہ بچانا چاہتا ہے۔ “ جارود عبدی، جو اس وقت عمر فاروق ؓ کے ساتھ تھے ، یہ سن کر بولے: ” اے عورت تو نے امیر المومنین کے ساتھ بہت زبان درازی کی ، عمر فاروق ؓ نے فرمایا : انھیں کہنے دو، جانتے ہو یہ کون ہیں۔ ان کی بات تو سات آسمانوں کے اوپر سنی گئی تھی۔ عمر کو تو یہ رتبہ ادنیٰ سننا چاہئے “ یہ خاتون قبیلہ خزرج کی خولہ بنت ثعلبہ تھیں جن کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر ۵ کے شروع میں آیا ہے : ” بے شک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارہ میں ۔ ۔ ۔ “

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page