الاہرام ۲۳ اپریل ۱۹۴۵ء
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۴۸
ان کے پاس اپنی ہر غیر خدا پرستانہ روش کے لئے خدا کی کتاب میں دلیل موجود تھی !
مسیح کے ظہور سے پہلے یہودی حضرت مسیح کے منتظر تھے ۔ وہ دعا کرتے تھے کہ " خدایا ! مسیح کو جلد بھیج" ، مگر جب مسیح ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے تو انہوں نے ان کو ماننے سے انکار کر دیا۔ حتی کہ اپنے خیال سے آپ کو دار پر چڑھا دیا ۔ ( اور آپ کا نام بیل زبوب ( شیطان ) رکھا ۔ ایسا کیوں ہوا۔ اس کی وجہ وہی " شک " تھا جو مصریوں کو حضرت یوسف کی نبوت ماننے میں رکاوٹ بنا تھا۔ حضرت مسیح اپنے ساتھ دنیوی شان و شوکت لے کر ظاہر نہیں ہوئے عام انسانوں کی طرح وہ بھی ایک انسان تھے ۔ یہودیوں کی سمجھ میں نہ آ سکا کہ انھیں جیسا ایک انسان وہ عظیم انسان ہو سکتا ہے جس کی پیشین گوئی ان کی مقدس کتابوں میں کی گئی تھی۔ یہودیوں نے حضرت مسیح کے انکار کا ایک نہایت آسان راستہ نکالا ۔ ان کی کتابوں میں بعد کے دور کے لئے دو پیغمبروں کی پیشین گوئی کی گئی تھی ۔ ایک مسیح ، دوسرے " وہ نبی " انھوں نے یہ کیا کہ حضرت مسیح کو اُس معیار سے معیار حضرت مسیح پر راست نہیں آسکتا تھا۔ انھوں نے اعلان کر دیا کہ یہ ”جھوٹے مسیح“ ہیں۔ اگر وہ سچے مسیح ہوتے تو ضرور ہماری آسمانی کتابوں کی پیشین گوئیاں ان پر صادق آتیں۔
انھوں نے کہا کہ مسیح کا ظہور تورات کی نص کے مطابق بعض نشانیوں کے ساتھ ہوگا۔ اور جب تک یہ نشانیاں ظاہر نہ ہوں، جو کوئی بھی مسیح ہونے کا دعوے دار ہوگا، وہ جھوٹا ہوگا۔ ان نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ مسیح ایک غیر معروف مقام سے ظاہر ہوگا۔ مگر ہم سب جانتے ہیں کہ اس آدمی کا گھر ناصرہ میں ہے اور ناصرہ فلسطین کا ایک مشہور معروف شہر ہے۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ وہ ایک لوہے کے عصا کے ساتھ حکومت کرے گا۔ یعنی وہ تلوار سے کام لے گا۔ مگر اس مدعی مسیح کے پاس لکڑی کا ڈنڈا تک نہیں ہے۔ تیسری شرط یا نشانی یہ ہے کہ وہ داؤد کے تخت پر بیٹھ کر داؤد کی بادشاہت کو قائم کرے گا۔ جبکہ اس مسیح کا حال یہ ہے کہ اس کے پاس بیٹھنے کے لئے ایک چٹائی بھی نہیں ہے۔ اسی طرح ایک شرط یہ ہے کہ وہ تورات کی شریعت کو پھر سے قائم کرے گا۔ مگر اس شخص نے اس شریعت کو منسوخ کر دیا۔ ایک نشانی مسیح کی یہ ہے کہ اس کے عہد میں عدل و انصاف اس قدر ترقی پائے گا کہ نیکی اور ہمدردی انسان تو مفتی محمد عبدہ اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار وہ کھانے کی ایک مجلس میں تھے۔ ان کے ساتھ اس دعوت میں اور بھی بڑے بڑے علماء تھے۔ مفتی محمد عبدہ نے چمچہ سے کوئی چیز اٹھ کر منہ میں ڈالی تو از ہر کے ایک عالم نے مستعجب ہو کر کہا: احلال هذا ام حرام (یہ حرام ہے یا حلال)
الاہرام ۲۳ اپریل ۱۹۴۵ء
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues