Al-Risala · April 1977 · page 39

لطیفہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۳۹

انسان حیوانوں میں بھی پائی جائے گی۔ جب کہ مسیح کے زماوہ میں یہ حال ہے کہ ہر طرف ظلم اور نا انصافی کا دور دور ہے اسی طرح ایک نشانی یہ ہے کہ مسیح کے وقت خدا پرست اتنے کامیاب ہوں گے کہ تمام دنیا کی قوموں پر فتح پائیں گے۔ مگر ہم نہایت ذلت اور غلامی کی حالت میں رومیوں کے ماتحت ہیں۔ پھر یہ شخص وہ مسیح کیسے ہو سکتا ہے جس کی تورات میں پیشین گوئی ہے۔

یہ جتنے معیار یہودیوں نے پیش کئے، وہ سب تورات میں لکھے ہوئے ہیں، مگر وہ " وہ نبی" کے ہیں نہ کہ مسیح کے۔ یہودیوں نے " وہ نبی " کے معیار کو مسیح کے انکار کے لئے استعمال کیا۔ مگر جب " وہ نبی " عرب کے ایک غیر معروف شہر میں محمد بن عبداللہ" کی صورت میں پیدا ہوئے اور خدا نے آپ پر نہ تمام نشانیاں مکمل طور پر پوری کر دیں جو تورات میں لکھی ہوئی تھیں تو انھوں نے آپ کی نبوت کا انکار کرنے کے لئے ایک اور وجہ تلاش کر لی۔ انھوں نے کہا: " اب تک تمام انبیاء اسرائیل کے خاندان میں آئے، پھر اسمٰعیل کے خاندان میں کیسے کوئی نبی پیدا ہو سکتا ہے ؟

یہود نے حضرت مسیح کے انکار کے لئے یہ کیا کہ پیغمبر آخر الزمان کی علامتوں کو آپ پر چسپاں کیا جو ظاہر ہے کہ آنجناب پر چسپاں نہیں ہو سکتی تھیں۔ اس کے بعد جب پیغمبر آخر الزمان کا ظہور ہوا تو آپ کو ان علامتوں سے جانچا جو ان کی کتاب میں حضرت مسیح کے لئے بتائی گئی تھیں۔ اس طرح انھوں نے دونوں نبیوں کا انکار کر دیا۔ اور دونوں مواقع پر ان کے پاس یہ کہنے کے لئے کافی الفاظ موجود تھے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں کتاب اللہ کی روشنی میں کر رہے ہیں۔ ہم نے خدا کی کتاب سے ہٹ کر اپنے لئے کوئی موقف اختیار نہیں کیا ہے !

( )

لطیفہ

دیکھو ترکیب استعمال سمجھ لو۔ حکیم صاحب نے مریض کو نسخہ دیتے ہوئے کہا۔

ہاں ارشاد ہو،،

اس کو گرم پانی میں اچھی طرح جوش دے کر، چھان کر سوتے وقت پی لینا۔ اللہ نے چاہا تو پہلی ہی خوراک میں آرام محسوس ہوگا۔ “ بہت اچھا حضور اور دیکھو کل صبح آ کر اطلاع دینا،، بہت اچھا دوسری صبح مریض پھر آیا، حکیم صاحب نے نبض پر ہاتھ رکھا اور پوچھا، کہو کچھ فرق محسوس ہوا۔ مریض نے کہا نہیں حضور کچھ فرق نہیں بلکہ آج تو تکلیف اور بڑھ گئی ہے“ یہ حکیم صاحب گہری سوچ میں پڑ گئے، ماتھے پر ہاتھ رکھا، لمبی سانس لی اور کچھ یاس آمیز لہجہ میں کہا اچھا لاؤ نسخہ دکھاؤ۔

نسخہ ؟ “ مریض بولا حضور نسخہ تو آپ کے ارشاد کے مطابق میں نے جوش دے کر پی لیا۔ “ حکیم صاحب نے گھبرا کر آنکھیں اوپر اٹھائیں کیا کہا! نسخہ پی لیا“ جی حضور نسخہ جوش دے کر پی لیا جیسا کہ آپ نے بتایا تھا کہ اس کو ...... ، ارے بدبخت، حکیم صاحب غصہ سے بولے کہیں نسخہ بھی جوش دے کر پیا جاتا ہے، نسخہ میں جو دوا لکھی جاتی ہے وہ استعمال کی جاتی ہے نہ کہ نسخہ کا کاغذ“

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page