ہاں ارشاد ہو،،
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۵۰
قارون ایک اسرائیلی خاندان میں پیدا ہوا۔ مگر وہ قبطی بادشاہوں کا حلقہ بگوش ہو گیا۔ کیونکہ دنیوی کامیابی کی کنجیاں اس وقت قبطی حکمراںوں ہی کے پاس تھیں ۔
قارون ایک اسرائیلی مسلمان تھا۔ مگر قرآن میں اس کا ذکر فرعون اور ہامان کے ساتھ کیا گیا ہے (عنكبوت)۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ بنی اسرائیل سے کٹ کر وقت کے ظالم حکمران فرعون سے جا ملا تھا۔ قارون کو بائبل اور تالمود میں قورح کہا گیا ہے۔ بائبل کی روایت (خروج ۶: ۲۱ - ۱۸) کے مطابق وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا چچازاد بھائی تھا، حضرت موسیٰ اور قارون کے والد ایک دوسرے کے سگے بھائی تھے۔ قارون بنی اسرائیل میں پیدا ہوا اور اس وقت کے لحاظ سے وہ مسلمان تھا۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی شخصیت اور زبردست صلاحیتیں عطا کی تھیں۔ اس طرح کے لوگوں میں اکثر نہایت خاموشی سے یہ کمزوری داخل ہو جاتی ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کی قیمت اسی موجودہ دنیا میں وصول کر لینا چاہتے ہیں۔ قارون میں بھی یہی کمزوری گھس آئی۔ وہ دن بدن اسرائیل سے دور اور فرعون سے قریب ہونے لگا۔ کیونکہ دنیوی کامیابیوں کی کنجیاں اس وقت فرعون کے پاس تھیں ۔ اس کی اس پالیسی نے اس کے لئے دولت اور عزت کے دروازے کھول دیئے، اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ اقتدار پرستی اور مصلحت پسندی کی انتہا پر پہنچ گیا۔ فرعون کے وزیرِ اعظم ہامان کے بعد وہ قبطی شہنشاہیت کا تیسرا سب سے بڑا رکن تھا۔ وہ بطود خود اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگیا کہ یہ مرتبہ مجھے اپنی خصوصی صلاحیتوں (قصص ۔ ۷۸) کی بنا پر ملا ہے۔ حالانکہ دراصل یہ قومی غداری کی قیمت تھی۔ فرعون بنی اسرائیل کو مصر سے مٹا دینا چاہتا تھا۔ اس کو ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو بنی اسرائیل کا ہم قوم ہو۔ تاکہ جب وہ بنی اسرائیل کو مٹانے کے منصوبے زیر عمل لائے تو اس کے پاس یہ کہنے کا جواز ہو کہ یہ سب ہم ملک کی فلاح کے لئے کر رہے ہیں۔ اگر ہم کو بنی اسرائیل سے قومی و نسلی دشمنی ہوتی تو ہم انھیں کے ایک فرد کو اپنے دربار میں اتنا اونچا مقام کیوں دیتے۔ اس کو جو مرتبہ ملا وہ بنی اسرائیل کی بربادی کی قیمت پر تھا نہ کہ اپنی کسی صلاحیت کی بنا پر۔
قارون کے بارہ میں قرآن کا بیان حسب ذیل ہے: قارون، موسیٰ کی قوم میں سے تھا، پھر اس نے اپنی قوم سے بغاوت کی۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اٹھا سکتی تھی۔ جب اس کی قوم (بنی اسرائیل) کے لوگوں نے اس سے کہا: اپنی اس حیثیت پر نہ اترا، اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے، اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں اپنے حصہ کو بھول نہ جا، اور احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے، اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر۔ اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا۔ تو اس نے جواب دیا: یہ سب کچھ جو مجھے ملا ہے اپنے اس علم کی بنا پر ملا ہے جو مجھے حاصل ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues