ہاں ارشاد ہو،،
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۵۱
کیا قارون کو یہ علم نہ تھا کہ اللہ اس سے پہلے بہت سے ایسے لوگوں کو ہلاک کر چکا ہے جو اس سے زیادہ قوت و جمعیت والے تھے۔ اور مجرموں سے ان کے گناہ نہیں پوچھے جاتے۔ ایک روز وہ اپنی قوم کے سامنے اپنے پورے ٹھاٹھ کے ساتھ نکلا۔ جو لوگ دنیوی زندگی کے طالب تھے، وہ اس کو دیکھ کر کہنے لگے: کاش ہم کو بھی وہ ساز و سامان ملا ہوتا جو قارون کو ملا ہے۔ واقعی وہ بڑا نصیب والا ہے۔ جن لوگوں کو حقیقت کا علم عطا ہوا تھا، انھوں نے کہا: تمھارا ناس ہو، خدا کے گھر کا ثواب اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ جو ایسے شخص کو ملتا ہے جو خدا پر یقین کرے اور اچھے کام کرے، اور وہ انھیں کو ملتا ہے جو صبر کرنے والے ہیں۔ پھر ہم نے قارون اور اس کی محل سرا کو زمین میں دھنسا دیا۔ سو کوئی ایسی جماعت نہ ہوئی جو اس کو اللہ کی پکڑ سے بچا لیتی ، اور نہ وہ خود اپنے کو بچا سکا۔ اور جو لوگ اس کے جیسے ہونے کی تمنا کرتے تھے، اس کا انجام دیکھ کر کہنے لگے، اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، زیادہ روزی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے کم دیتا ہے۔ اگر ہم پر اللہ کی مہربانی نہ ہوتی تو ہم کو بھی دھنسا دیتا، منکروں کو کبھی فلاح نہیں ہوتی۔ ‘‘ قصص ۸۲ - ۸۱ ہر آدمی کے لئے سب سے پہلا کام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو پہچانے۔
ابوتمام (۲۳۱ - ۱۸۸ھ دمشق کے قریب ایک نے محض اتفاقاً کیا تھا۔ ایک شخص کے یہاں ایک بار اس کو قیام کرنا پڑا۔ وہاں مختلف شعراء کے کلام کا ذخیرہ موجود تھا۔ کوئی دوسرا مشغلہ نہ ہونے کی وجہ سے اس نے انتخاب شروع گاؤں میں پیدا ہوا۔ وہ ایک غریب آدمی تھا اور قاہرہ کی مسجد عمرو بن عاص میں پانی بھرتا تھا۔ اپنے زمانہ کے مطابق شاعری میں طبع آزمائی کرنے لگا؛ یہاں تک کہ شاعر بن گیا۔ اس کے اشعار کا دیوان چھپ چکا ہے اس کے علاوہ اس کی دو تصانیف الحماسہ اور فتح الشعوار کردیتے ہیں۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک کام میں اپنی عمر صرف کر دیتا ہے ۔ حالانکہ اس کی زیادہ قیمت نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس کوئی دوسرا کام اس سے محض ضمنی طور پر ہو جاتا ہے اور وہ زیادہ قیمتی قرار پاتا ہے ۔
ہیں جن میں اس تے زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام کے شاعروں کے کلام کا انتخاب درج کیا ہے۔ یہ انتخاب اتنا عمدہ ہے کہ جب وہ سامنے آیا تو لوگ کہنے لگے: "اس کا انتخاب اس کی اپنی شاعری سے بہتر ہے " الحماسہ کی شکل میں جو انتخاب ہے ، وہ اس اکثر اوقات آدمی کے لئے بہترین بات یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے طبع زاد کام کا کریڈٹ لینے کا شوق نہ کرے، بلکہ کسی دوسرے کے کام میں شریک و معاون بن جائے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس حقیقت پسندی پر اپنے کو راضی کر سکیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues