۱ - اسلامی علوم کی تدوین
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۶۱
تعارف سمندر میں برف کے بہت بڑے بڑے تودے ہوتے ہیں جن کو آئس برگ کہا جاتا ہے۔ ان برفانی پہاڑوں کا دس میں سے نو حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے اور صرف ایک حصہ پانی کے اوپر دکھائی دیتا ہے۔ ایسی ہی کچھ مثال انسانی زندگی کی ہے۔ انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے دائمی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔ اور پھر اس کی زندگی کے نہایت مختصر حصہ تقریباً سو سال کو موجودہ دنیا میں رکھ کر بقیہ تمام عمر کو آخرت کی دنیا میں ڈال دیا۔ موت وہ دروازہ ہے جس سے ہم اپنی موجودہ مدت حیات پوری کرنے کے بعد دوسری دنیا میں داخل ہو جاتے ہیں۔
یہ انسانی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ انسان کی کامیابی کی واحد صورت یہ ہے کہ وہ آخرت رخی زندگی (AKHIRAT ORIENTED LIFE) کو اپنی زندگی بنائے ۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے وسائل اور اپنی سرگرمیوں کو اس طرح منظم کرے جو اس کی زندگی کے اگلے مرحلے کو بہتر بنانے والا ہو۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو اس کے تمام کارنامے اسی دنیا میں رہ جائیں گے اور موت کے بعد دوسری دنیا میں وہ اس حال میں پہنچے گا کہ آخرت کی طویل تر زندگی میں اپنی جگہ بنانے کے لیے اس کے پاس کچھ نہ ہوگا۔ یہی وہ نازک مسئلہ ہے جس سے انسان کو باخبر کرنے کے لیے خدا نے پیغمبروں کا سلسلہ جاری کیا۔ ہر دور میں خدا کے نمائندے آئے اور آسمانی کتابیں اتاری گئیں تاکہ موت کے دروازے میں داخل ہونے سے پہلے انسان کو بتادیا جائے کہ اس کو بالآخر کہاں جانا ہے۔ اور اپنی مستقل کامیابی کے لئے اسے کیا کرنا چاہئے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ۔ تاہم جہان تک پیغمبرانہ کام کا تعلق ہے، اس کی ضرورت بدستور باقی ہے ۔ آج بھی یہ مطلوب ہے کہ خدا کے بندوں کو اس اہم ترین حقیقت سے باخبر کیا جائے تاکہ آخرت میں خدا کے اوپر کسی کی حجت باقی نہ رہے۔
خدا کے اس پیغام کو اس کے بندوں تک پہنچانے کے لیے اب کوئی پیغمبر آنے والا نہیں ہے ۔ اب امت مسلمہ اس کی ذمہ دار ہے۔ خاتم النبیین کی امت کا اصل مشن دنیا میں یہی ہے کہ وہ اس پیغمبرانہ ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے اٹھے ۔ یہ اس کا ایسا ناگزیر فریضہ ہے جس سے غفلت کسی حال میں معاف نہیں ہوسکتی ۔ اسلام کا قیام اس لئے عمل میں آیا ہے کہ امت مسلمہ کو اس کی ذمہ داری کی طرف متوجہ کرے اور تمام ممکن ذرائع سے حق کا پیغام لوگوں تک پہنچائے ۔ پیغام رسانی کا یہ عظیم کام صرف اس وقت مؤثر طور پر انجام دیا جا سکتا ہے جب کہ اس کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے مکمل تیاری کی جائے اور اس کے لئے تمام ضروری تدابیر عمل میں لائی جائیں ۔ اسلامی مرکز نے اس سلسلے میں اپنے سامنے جو نقشہ کار رکھا ہے، اس کو مختصر ا یہاں درج کیا جاتا ہے۔
۱ - اسلامی علوم کی تدوین
پہلا کام اسلام کے علوم کو عصری اسلوب میں
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues