Al-Risala · April 1977 · page 62

۲۔ شاکلہ کو بدلنا

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۶۲

مدن کرنا ہے ۔ اسلام ایک دائمی حقیقت ہے۔ مگر زمانہ کی اصطلاحیں اور اسلوب کلام بدلتے رہتے ہیں ۔ قرآن وحدیث کی تعلیمات اور رسول اور اصحاب رسول کی زندگیوں کے بارے میں جو لٹریچر پچھلے زمانوں میں تیار ہوا وہ انتہائی قیمتی ہے۔ اور ہمیشہ کے لیے اسلام کا علمی و فکری ماخذ ہے۔ تاہم ضرورت ہے کہ اس کو جدید سائنٹیفک اسلوب میں مرتب کیا جائے تاکہ آج کے ذہن کے لیے وہ فکری غذا حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکے۔

۲۔ شاکلہ کو بدلنا

ہر دور کا ایک شاکلہ (طرز فکر) ہوتا ہے جس کے مطابق انسان سوچتا ہے اور مختلف مسائل میں رائے قائم کرتا ہے۔ قدیم زمانہ میں شرک کا شاکلہ دنیا میں رائج تھا۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھیوں نے طاقتور فکری سیلاب برپا کر کے اس شاکلہ کو توڑ دیا۔ یہاں تک کہ تاریخ ایک نئے رخ پر چل پڑی۔ اب دوبارہ الحاد کا شاکلہ دنیا بھر میں چھا گیا ہے۔ علم و عمل کے تمام شعبوں میں رائے قائم کرنے کے لیے غیر خدائی معیاروں کو برتری حاصل ہوگئی ہے۔ ضرورت ہے کہ فکری اور عملی جدوجہد کے ذریعہ دوبارہ شاکلہ الحاد کو توڑا جائے جیسے جس طرح ہمارے اسلاف نے شاکلہ شرک کو توڑا تھا۔ اس کے بعد ہی وہ ذہنی زمین بن سکتی ہے جب کہ خدا پرستانہ انداز فکر دوبارہ دنیا میں اپنی جگہ پاسکے۔

۳۔ اقتصادی وتمدنی استحکام

یہ دنیا مادی دنیا ہے، یہاں کوئی کام، خواہ وہ اپنی نوعیت میں خالص غیر مادی کیوں نہ ہو، مادی ذرائع کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے ضرورت ہوتی ہے کہ اہل اسلام اپنے اندر اقتصادی قوت اور تمدنی استحکام پیدا کریں تاکہ ان کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو مؤثر طور پر ادا کرنا ممکن ہو سکے ۴۔ جدید ضرورتوں کے مطابق اسلامی تعلیم اسلامی تعلیم کا مقصد مسلم نسلوں کو وہ علم اور وہ شعور دینا ہے جس سے ایک طرف وہ اپنے دین کو اس کی اصل حیثیت میں سمجھیں ۔ دوسری طرف وہ اس قابل ہوں کہ اپنے زمانہ کے لوگوں کے اوپر اپنی دینی ذمہ داریوں کو ادا کر سکیں ۔

ہمارے موجودہ تعلیمی ادارے دونوں ہی مقاصد کی تکمیل میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ اول الذکر مقصد کے لیے جزوی طور پر اور ثانی الذکر کے لیے کلی طور پر ان کی غیر موزونیت واضح ہے ۔ ضرورت ہے کہ از سر نو اسلامی تعلیم کا منہج بنایا جائے ۔ اس کے بغیر وہ "علماء" پیدا نہیں ہو سکتے جو انبیاء و بنی اسرائیل کی طرح امت کے نگہبان بن سکیں ۔

۵۔ پریس کی طاقت کا استعمال

پریس کا مطلب ایک شخص کے تحریری کام کو کروڑوں سے ضرب دینا ہے۔ اس دریافت نے تاریخ میں پہلی بار ایک نیا امکان کھول دیا ہے۔ اس نے دعوت کے عمل کو مقامی پیغام رسانی کے دور سے نکال کر عالمی پیغام رسانی کے دور میں داخل کر دیا ہے اگر اس امکان کو اعلیٰ معیار کے مطابق بھر پور طور پر استعمال

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page