مطالعہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۲۶
لقاء قمة على المستوى الفكرى ! !
ختم ہونے کے بعد لوگ اس کی مطبوعہ کاپیاں حاصل کرنے کے لئے ٹوٹ پڑے اور تھوڑی دیر میں سارا ذخیرہ ختم ہوگیا۔ کانفرنس میں شریک ہونے والے اعضائے بکثرت مجھ سے ملاقات کی اور مقالے کو سراہتے ہوئے مولانا موصوف کو اپنی عقیدت وسلام پہنچانے کی درخواست کی۔ عزوز الرباعی (ڈائرکٹر جنرل الدار التونسية للنشر جوکہ تونس کا سب سے بڑا اشاعتی ادارہ ہے) نے کہا کہ یہ مقالہ اس پورے سال کا سب سے عمدہ مقالہ تھا (هذا اعظم بحث لهذه السنة) ۔
ترکی کے نمائندے محمد امین سراج نے کہا کہ "خدا کی قسم تم نے اس مقالہ سے ہمارے دلوں کو ٹھنڈک پہنچائی" (والله انك قد اثلجت صدورنا بهذا البحث) ۔ دوسرے لوگ جنہوں نے مقالہ کو سراہا اور سلام پہنچانے کو کہا ان میں سے کچھ نام یہ ہیں: احمد الحمانی (الجزائر کی وزارت امور دینیہ میں المجلس الاسلامی الاعلٰی کے ڈائرکٹر) ۔ محمد صلاح الدین المستادی (ایڈیٹر جوہر الاسلام۔ تونس) ۔ ڈاکٹر محسن عبدالحمید (پروفیسر بغداد یونیورسٹی)۔ مصر کے ڈاکٹر احمد شلبی ۔ انور الجندی ۔ رجب البنا (الاہرام) ڈاکٹر عبد الصبور شاہین ۔ ڈاکٹر عبداللہ شحاتہ ، ڈاکٹر (ایڈیٹر البلاغ) - عبد اللہ العقیل (ڈائرکٹر امور اسلامیہ وزارت اوقاف) ۔ سعودیہ کے شیخ محمد محمود الصواف (رابطہ عالم اسلامی) ۔ شیخ ابوبکر الجزائری (استاذ مدینہ اسلامی یونیورسٹی) - احمد محمد جمال (عضو مجلس الشوریٰ) مراکش سے عبدالرحیم بن سلامہ (صدر جمعیتہ التضامن الاسلامی) - ڈاکٹر عبد المنعم البدراوی (پروفیسر معہد الادارۃ الوطنی) ترکی سے پروفیسر اسماعیل حقی اور ڈاکٹر مصطفٰی ہیلکا - امریکا سے عمر فاروق عبد اللہ (شیکاگو یونیورسٹی) - جامعۃ الامام محمد بن سعود اور مدینہ یونیورسٹی کے متعدد اساتذہ و طلبا نے بھی اسی قسم کے جذبات کا اظہار کیا۔ بہت سے لوگوں نے کہا کہ ہم استاذ وحید الدین خاں کی کتابوں کے ذریعے اپنے ملکوں میں الحادی اور کمیونسٹ خطرات کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ایسی ہی کتابیں موجودہ دنیا میں اسلام کو پیش کر سکتی ہیں۔
سعودی ذرائع ابلاغ (اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی وژن) نے خصوصیت سے مقالہ کا ذکر کیا۔ اور قاہرہ کے روزنامہ الاہرام نے اپنی ۲۹ اکتوبر ۱۹۷۶ء کی اشاعت میں مقالہ کا واضح خلاصہ پیش کیا۔ انشاء اللہ آئندہ اس مقالہ کا اردو ترجمہ الرسالہ میں شائع کیا جائے گا۔ عربی زبان میں کئی جرائد اس کو شائع کر رہے ہیں۔ ۔
علی محمد جریشہ ۔ ڈاکٹر محمد احمد عاشور (ایڈیٹر الاعصام)۔ کوئٹہ کے ڈاکٹر جمال الدین عطیہ (ایڈیٹر المسلم المعاصر) ۔ تاب اور بہنیں بھی اس سلسلے کا ایک حصہ ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ کتابچہ کی شکل میں وہ قاہرہ سے عنقریب شائع ہونے والا ہے۔
(
تریحات زائد: ناصر، مان انڈیا، سمیرا، یلدیز نام زین الدین الرکابی (رائڈ ٹیرا المجتمع) ۔ عبدالرحمن الولایتی کا نفرنس میں ہندوستان سے بلائے جانے والے
‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues