جب زندگی کا رخ آخرت کی طرف ہو جائے
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۵
جب زندگی کا رخ آخرت کی طرف ہو جائے
اہل ایمان کی تعریف قرآن میں یہ کی گئی ہے کہ جب ان کے سامنے خدا کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل دہل اٹھتے ہیں (انفال - ۲) اور جب ان کے سامنے خدا کا کوئی حکم بیان کیا جاتا ہے تو فوراً اس کے آگے سر جھکا دیتے ہیں خواہ وہ ان کی مرضی کے خلاف کیوں نہ ہو۔ (نساء - ۶۵) حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔ پھر اس نے کہا کہ میرے پاس کچھ غلام ہیں۔ وہ میرے ساتھ خیانت کرتے ہیں اور میری نافرمانی کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے میں ان کو برا بھلا کہتا ہوں اور مارتا ہوں۔ پھر ان کے معاملہ میں میرا حال کیا ہوگا۔ آپ نے جواب دیا: جب قیامت کا دن آئے گا تو ان کی خیانت اور ان کی نافرمانی کا شمار کیا جائے گا۔ پس اگر تمھاری سزا ان کے جرم کے مطابق ہوگی تو معاو برابر برابر ہو جائے گا اور اگر تمھاری سزا ان کے جرم سے زیادہ ہوگی تو ان کو اجازت دی جائے گی کہ اس کے بقدرتم سے بدلہ لیں۔ یہ سن کر وہ شخص چیخ پڑا اور رونے لگا۔ اور اس کے بعد کہا: يارسول الله، ما اجد لی دلهولاء خیرا من مفارقتهم، اشهدك انهم كلهم احرار (احمد، ترمذی) اے خدا کے رسول ، میرے اور ان کے درمیان جدائی سے بہتر کوئی صورت نہیں۔ میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ سب آج سے آزاد ہیں۔
حقیقت پسندی بعثت کے تیسرے سال جب عمر بن الخطاب کے دونوں طرف کھڑی تھیں مشرکین کی فوج سے ان کا مشہور شہسوار عمروبن ودگھوڑے پر سوار ہو کر نکلا اور آواز دی: من یبار زنی (کون میرا مقابلہ کرے گا) علی بن اسلام لائے تو مسلمانوں کی تعداد تقریباً چالیس تھی۔ ابی طالب نے فرمایا: انا يارسول اللہ (میں یا رسول اللہ) مگر مخالفین کے ڈر سے مسلمان چھپ کر عبادت کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: حضرت عمر چونکہ نہایت پرجوش اور بہادر آدمی تھے، انھوں اجلس فانه عمروبن ود (تم بیٹھو، کیونکہ یہ عمر و نے کہا: جب ہمارے پاس حق ہے تو ہم چھپے کیوں رہیں۔ بن ود ہے) ہم خانہ کعبہ میں جاکر کھلے عام عبادت کریں گے۔ نبی صلی اللہ یہ تھا پیمبر خدا کا طریقہ۔ مگر آج آپ کے ماننے والے اس علیہ وسلم نے سنا تو منع فرمایا اور کہا:
کو کمال سمجھتے ہیں کہ حالات کا اندازہ کئے بغیر میدان مقابلہ میں کود پڑیں، خواہ اس کے بعد بربادی کے سوا اور کوئی چیزان کے حصہ میں نہ آئے ۔