Al-Risala · May 1977 · page 6

جب زندگی کا رخ آخرت کی طرف ہو جائے

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۶

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی چھوٹی چھوٹی چیزوں میں "شریعت" کا بہت اہتمام کرتا ہے ۔ مگر بڑے بڑے امور میں اس کو خدا کی شریعت کی کوئی پروا نہیں ہوتی ۔ وہ ایسے معاملات میں "بال کی کھال" نکالنے کی حد تک مذہبی بنتا ہے جن میں اس کے ذاتی مفادات مجروح نہیں ہوتے ۔ جو اس کے دینوی عزائم میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتے ، جن میں اسے یہ قیمت نہیں دینی پکڑتی کہ دین کی خاطر اپنے ایک مبغوض شخص سے محبت کرے اور اپنے ایک محبوب شخص سے قلبی تعلق ختم کر دے ۔ خلاصہ یہ کہ جو دین اس کی اپنی زندگی میں خلل نہ ڈالے ، وہ اس کی پیروی میں بہت آگے ہوتا ہے ۔ مگر وہ دین جو اس کی اپنی زندگی سے ٹکرائے، جو اس سے ” یہ کرو اور وہ نہ کرو“ کا مطالبہ کرے ، اس سے اسے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی ۔

تغلق خاندان کے آخر زمانہ میں جب ان کی سلطنت کا زوال شروع ہوا تو فیروز تغلق کے جاگیر دار دلاور خاں نے مالوہ میں ۱۴۰۱ء میں خود مختار سلطنت قائم کر لی ۔ اس کا دار السلطنت ابتدا ؤ دھار اور اس کے بعد مانڈو تھا۔ دلاور کے بعد ہو شنگ اور اس کے بعد اس کا لڑکا غزی خاں تخت پر بیٹھا۔ اس زمانہ میں محمود خلجی اس کا وزیر تھا۔ وزیر نے موقع پا کر غزنی خاں کو مروا ڈالااور خود تخت پر بیٹھ گیا۔

سلطان محمود خلجی ایک بہادر سپاہی تھا اور ذاتی زندگی میں نہایت شریف اور منصف مزاج تھا ۔ اس نے ساری عمر کیمپ میں گزاری ۔ محمود نے 1469میں وفات پائی ۔

سلطان محمد تغلق کے عہد میں 1347ء میں دکن دین داری یہ ہے کہ دین پوری زندگی پر چھا جائے نہ کہ وہ زندگی کا محض ایک وقتی ضمیمہ ہو میں بغاوَت ہوئی اور حسن گنگو نے ایک خود مختار ریاست کی بنیاد رکھی جس کا دعویٰ تھا کہ وہ ایران کے قدیم بادشاہ بہمن کی اولاد ہے۔ اس نے گلبرگہ کو اپنا دار السلطنت قرار دیا۔ اس خاندان کے احمد شاہ بہمنی نے شہر بیدر بسایا جو گلبرگہ کے بجائے بہمنی سلطنت کا پایہ تخت ہو گیا۔ اسی خاندان کا ایک حکمران نظام شاہ بہمنی تھا۔ وہ ۱۴۶۲ء میں تخت پر بیٹھا۔ مگر تخت نشینی کے دو سال بعد نظام شاہ کا اچانک انتقال ہو گیا ۔ مالوہ کا حاکم محمود خلجی حلال غذا کا بہت زیادہ اہتمام کرتا تھا۔ 1461ءمیں اس نے بیدر پر حملہ کیا جو نظام شاہ بہمنی کا دار السلطنت تھا۔ دورانِ محاصرہ اس کے سامنے ایک مسئلہ یہ آیا کہ اپنے لئے حلال غذا کہاں سے حاصل کرے۔ حلال سبزیوں کا ذخیرہ جو اس کے پاس تھا وہ محاصرہ کے طول پڑ جانے کی وجہ سے ختم ہو گیا۔

اس مسئلہ کا اسے پہلے سے اندازہ تھا چنانچہ اپنے معمول کے مطابق وہ اپنے ملک سے مٹی اور تختے لے کر گیا تھا۔ اس نے لکڑی کے تختوں پر مٹی ڈال کر سبزی اگائی۔ مگر وہ اس کی ضرورتوں کے لئے ناکافی ثابت ہوئی۔ بالآخر اس نے اس علاقہ کے ایک بزرگ مولاناشمس الدین کرمانی کو بلایا

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page