جب زندگی کا رخ آخرت کی طرف ہو جائے
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۷
جب خدا کی زمین تعصبات سے خالی تھی ستر سال پہلے کی دنیا آج کی دنیا سے کتنی مختلف تھی، اس کا اندازہ کرنے کے لئے یہاں ہم مولانا شبلی نعمانی کی ایک تحریر نقل کرتے ہیں جو انہوں نے ۱۹۰۹ میں لکھی تھی: " یہ واقعہ حیرت سے سنا جائے گا کہ کولھا پور کی ریاست نے، جو ایک ہندو ریاست ہے، ایک مسلمان طالب علم کو اپنے صَرف سے ندوۃ العلماء کے دار العلوم میں اس غرض سے بھیجا ہے کہ وہ یہاں ایک مذہبی تعلیم پائے۔ ریاست مذکور کے افسر تعلیم کنج لال صاحب دیوانی ایم۔ اے کا جو خط اس کے متعلق ہمارے پاس آیا ہے اس کا اقتباس حسب ذیل ہے:"
"کچھ دن ہوئے مفخرت نامہ والا اشرف صدر ولا یا تھا۔ موقع پا کر وہ حضور مہاراجہ صاحب دام ملکہ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ حضور ممدوح اس کا مضمون سن کر بہت مسرور ہوئے اور فرمایا کہ طالب علم کو وہاں روانہ کیا جائے۔ امید کہ یہ نوجوان جناب کے دار العلوم سے اتنا ذخیرہ علوم کا لے کر واپس آئے گا کہ کل گرد و نواح کے مسلمان اس پر فخر کریں گے۔ "
موجودہ دنیا میں یہ کس قدر عجیب آواز ہے۔ لیکن در حقیقت یہ اس عجیب و غریب بے تعصبی کی تبصیر یادگار ہے۔ ہیں جو تیموریوں نے ہندوستان میں غیر مذہب والوں کے ساتھ برتی تھیں۔ تیموریوں نے کیا کیا۔ اس سوال کا جواب پچھلی تاریخوں نے بار بار دیا۔ لیکن مخالفین کو تسلی نہیں ہوتی۔ اس لئے ان کو زندہ مثالوں کی طرف نظر اٹھانی چاہئے ۔ ان کو حیدر آباد جانا چاہئے جہاں سالانہ تین لاکھ روپے صرف شیوالوں، مندروں اور بت خانوں کی تعمیر و مرمت میں صرف کیا جاتا ہے۔ میں نے خود اپنے زمانہ قیام (حیدر آباد) میں دیکھا کہ ایک گاؤں کے ہندو نے درخواست کی کہ ہمارے آس پاس کوئی شیوالہ نہیں ہے جس میں ہم لوگ اپنی مذہبی عبادت بجا لائیں، اس درخواست پر ریاست سے چھ ہزار روپیہ عطا ہوا۔
گیا میں جو بدھ مت کا سب سے بڑا مندر ہے، اس کے آس پاس آج سلاطین تیموریہ کے تیرہ فرامین موجود ہیں (میں نے خود جا کر دیکھا ہے) جس میں جاتریوں اور پجاریوں کے مصارف کے لئے زمین اور جاگیریں عطا کی گئی ہیں۔ ریاست پٹیالہ ایک سکھ ریاست ہے۔ میں نے خود وہاں جا کر معلوم کیا ہے کہ کوئی مسجد تعمیر کی جاتی ہے تو ریاست کی طرف سے ایک معین رقم اس کام کے لئے ملتی ہے۔ اور یہ قاعدہ مدت سے چلا آ رہا ہے" الندوہ، ماہ جولائی ۱۹۰۹ء