جب زندگی کا رخ آخرت کی طرف ہو جائے
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۸
نوجانی اسی قوم کا واحد سہارا ہے بحر مردار ایپی اسم کا واحد سمندر ہے JUDAH DEAD SEA MOAB SIMEON یہ ایک عبرت ناک داستان ہے اور ایک قدرتی عجوبہ بھی بہت سے واقعات جن کو علمی دنیا میں محض جغرافی یا طبیعیاتی مطالعہ کا موضوع سمجھا جاتا ہے، اللہ کی نظر میں وہ خدائی آیات (ذاریات ۔ ۲۷) ہیں۔ ان کے اندر لوگوں کے لئے عبرت ہے۔ جو لوگ آج عزت یا خوش حالی کا کوئی حصہ پا کر گھمنڈ میں پڑ گئے ہیں، انھیں ان لوگوں کے انجام سے نصیحت لینی چاہئے جن کو انھیں کی طرح عزت اور خوش حالی ملی تھی، مگر وہ گھمنڈ میں پڑ گئے، انھوں نے اپنے آپ کو مالکِ کائنات کی تابعداری سے آزاد سمجھ لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تباہ کر دیئے گئے۔
انھیں نشانیوں میں سے ایک نشانی وہ ہے جس کو بحرِ مردار (DEAD SEA) کہتے ہیں۔ یہ بحیرہ شرق اردن اور فلسطین کے درمیان شمال سے جنوب تک اس طرح پھیلا ہوا ہے کہ اس کی چوڑائی کے مقابلہ میں اس کی لمبائی تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ جنوب کی طرف اس بحیرہ کا ایک تہائی حصہ چار ہزار برس قبل تک اصل بحیرہ میں شامل وہ تھا۔ یہ بعد کو اس کا جُزو بنا ہے۔ یہ حصہ قدیم دنیا کا ایک انتہائی سرسبز و شاداب علاقہ تھا جس کو بائبل میں سدیم کی وادی“ کہا گیا ہے۔ بائبل کا بیان ہے کہ " وہ، اس سے پیشتر کہ خداوند نے سدوم اور عمورہ کو تباہ کیا، خداوند کے باغ (عدن) اور مصر کے مانند خوب سیراب تھی (پیدایش ۱۳ : ۱۰) اسی وادی سدیم میں اس وقت کی تمدن دنیا کے بڑے بڑے شہر سدوم، عمورہ، آدمہ، ضبوئیم اور ضُغر واقع تھے۔ یہاں اس وقت کی ایک طاقت ور اور ترقی یافتہ قوم، قوم لوط آباد تھی۔ ان لوگوں نے ظلم و فساد پھیلایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کے قانون نے ان کو پکڑ لیا۔ اس پورے علاقہ کو ہولناک زلزلہ نے تباہ کر دیا۔ ان کے اوپر بحر مردار کا پانی پھیل گیا اور اب نہ اپنے تمام آثار سمیت گندے پانی کے نیچے دفن پڑا ہوا ہے۔ جدید علم الآثار سے ثابت ہوا ہے کہ اس علاقہ میں حضرت ابراہیم کے زمانہ میں زبردست طوفان آیا تھا۔ پانی کے نیچے اب بھی ڈوبے ہوئے شہروں کے نشانات پائے جاتے ہیں ۔