Al-Risala · May 1977 · page 14

تلاش کر لیتا ھے

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۱۴

خدا کی مدد کی ایک شکل یہ بھی ہے اہلِ ایمان کو لازماً خدا کی مدد حاصل ہوتی ہے، مگر یہ مدد انہی لوگوں کے لئے ہے جو نفسانی محرکات سے اوپر اٹھ چکے ہوں۔ جو اللہ کو سر بلند کرنے کے لئے کام کریں نہ کہ اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے لئے۔ ہجرت کے چھٹے سال حدیبیہ کے مقام پر جو دس سالہ معاہدہ کیا گیا، اس کی ایک دفعہ یہ تھی : " قریش کا جو شخص اپنے ولی کی اجازت کے بغیر بھاگ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائے گا ، اس کو آپ واپس کر دیں گے اور آپ کے ساتھیوں میں سے جو شخص قریش کے پاس چلا جائے گا اس کو وہ واپس نہ کریں گے " اس معاہدہ کی تکمیل کے وقت قریش کی نمائندگی سہیل بن عمرو کر رہے تھے۔ معاہدہ ابھی لکھا ہی جا رہا تھا کہ سہیل بن عمرو کے لڑکے ابو جندل آ گئے۔ وہ مسلمان ہو گئے تھے۔ مگر مکہ والوں نے ان کو قید کر رکھا تھا۔ مکہ سے حدیبیہ (موجودہ شمیسی) تک ۱۳ میل کا فاصلہ طے کر کے وہ اس طرح آپ کے کیمپ میں پہنچے کہ اب بھی ان کے پیروں میں بیڑیاں تھیں اور جسم پر مار پیٹ کے نشانات تھے۔ انھوں نے آپ سے فریاد کی کہ مجھ کو اس قید سے نجات دلائی جائے۔ صحابہ کے لئے بھی اپنے مومن بھائی کی یہ حالت دیکھ کر ضبط کرنا مشکل ہو گیا۔ مگر سہیل بن عمرو نے کہا کہ معاہدہ کی تحریر چاہے مکمل نہ ہوئی ہو، شرائط تو ہمارے آپ کے درمیان طے ہو چکی ہیں اس لئے میرے لڑکے کو میرے حوالے کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دلیل کو تسلیم کرتے ہوئے ابو جندل کو ان کے حوالے کر دیا اور وہ روتے ہوئے مکہ واپس گئے۔ اسی طرح ابو بصیر اور دوسرے مسلمان جو قریش کی قید سے بھاگ کر مدینہ آئے ، ان کو حسب معاہدہ قریش کو واپس کیا جاتا رہا۔

مگر اس کے برعکس مسلمان عورتوں کے معاملہ میں اس اصول کی پابندی نہیں کی گئی۔ قرآن میں آیت اتری: ”اے ایمان والو! جب مومن عورتیں ہجرت کر کے تمھارے پاس آئیں تو ان کی جانچ کر لو، پھر جب تمھیں معلوم ہو جائے کہ وہ مومن ہیں تو ان کو کفار کی طرف واپس نہ کرو“ (ممتحنہ۔ ۱۰) اس سلسلہ میں، مثال کے طور پر یہ واقعہ آتا ہے کہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط مکہ سے نکل کر مدینہ پہنچیں۔ مکہ والوں کو معلوم ہوا تو انھوں نے معاہدہ کا حوالہ دے کر ان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ ام کلثوم کے دو بھائی ولید بن عقبہ اور عمارہ بن عقبہ انھیں واپس لے جانے کے لئے مدینہ آئے۔ اس کے باوجود ان کو واپس نہیں کیا گیا۔

بظاہر یہ معاہدہ کی خلاف ورزی تھی۔ اور قریش کے لئے زبردست موقع تھا کہ وہ آپ کی بد عہدی کا شور مچا کر آپ کو بدنام کریں۔ مگر قریش آپ کے ساتھ انتہائی دشمنی کے باوجود، بالکل خاموش ہو گئے۔ انھوں نے اس کے خلاف احتجاج تک نہیں کیا۔ ایسا کیونکر ہوا؟ سیرت اور تفسیر کی عام کتابوں میں اس کا کوئی جواب نہیں ملتا۔ قاضی ابو بکر ابن عربی نے لکھا ہے کہ قریش اس لئے خاموش ہو گئے کہ اللہ تعالی نے بطور معجزہ اس معاملہ میں ان کی زبان بندی کر دی تھی۔ بلاشبہ یہ اللہ تعالی کی مدد تھی مگر ان معنوں میں نہیں جن معنوں میں لفظ ”معجزہ“ عام طور پر

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page