Al-Risala · May 1977 · page 15

تلاش کر لیتا ھے

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۱۵

پربولا جاتا ہے ۔

معاہدہ کے الفاظ پر غور کر کے اس کی حقیقت سمجھی جاسکتی ہے۔ دوسری اکثر روایات کی طرح معاہدہ حدیبیہ کی شرائط بھی اکثر راویوں نے اپنے اپنے الفاظ میں بیان کی ہیں۔ مثال کے طور پر زیر بحث شرط کے متعلق مختلف روایتوں کے الفاظ ملاحظہ ہوں :

من جاء منكم لم نردد ه عليكم ومن جاءكم منا رد تموه علينا من اتی رسول الله من اصحابه بغیر اذن ولیه رد ه عليه من اتی محمدامن قريش بغیر اذن ولیه رده عليهم على ان لا ياتيك منا رجل وان كان على دينك الا ردد ته الينا آخری روایت بخاری (کتاب الشروط، باب الشروط فی الجہاد والمصالحه) کی ہے اور باعتبار سند قوی ہونے کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ غالباً معاہدہ کی مذکورہ شرط کے اصل الفاظ یہی تھے۔ اگر یہ مان لیا جائے تو اس فقرہ میں رجل (مرد) کے لفظ نے مسلمانوں کو موقع دیا کہ وہ مکہ سے آئی ہوئی مسلم خواتین کو اس دفعہ سے مستثنیٰ قرار دے سکیں۔ معاہدہ کی یہ شرط مسلمانوں کی طرف سے نہ تھی، بلکہ مکہ والوں کی طرف سے تھی۔ ان کی جانب سے سہیل بن عمرو نے معاہدہ میں دفعہ کے یہ الفاظ لکھوائے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ دفعہ کے الفاظ لکھواتے وقت سہیل کے ذہن میں کوئی شخص کا مفہوم ہو جس میں عورت اور مرد دونوں شامل ہوتے ہیں۔ مگر اپنے اس ذہنی مفہوم کو لفظ کی شکل دیتے ہوئے اس کی زبان سے جو لفظ نکلا وہ " رجل " تھا جو عربی زبان میں صرف مرد کے لئے بولا جاتا ہے، غالباً یہی وجہ ہے کہ ام کلثوم بنت عقبہ کے مدینہ پہنچنے کے بعد جب ان کے بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی بہن کی واپسی کا مطالبہ کیا ، تو امام زہری کی روایت کے مطابق ، آپ نے ان کو واپس دینے سے انکار کر دیا اور فرمایا : كان الشرط في الرجال دون النساء شرط مردوں کے بارہ میں تھی نہ کہ عورتوں کے بارہ میں ( احکام القرآن لابن عربی ، تفسیر رازی)

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ سے پہلے تک خود قریش بھی غالباً اس غلط فہمی میں تھے کہ معاہدہ کی یہ دفعہ ہر طرح کے مہاجرین کے بارہ میں ہے ۔ خواہ وہ مرد ہوں یا عورت ۔ مگر جب آپ نے توجہ دلائی کہ معاہدہ میں رجل (مرد) کا لفظ لکھا ہوا ہے۔ تو انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک لفظ کے ذریعہ مسلم خواتین کو ذلت کی واپسی سے بچا لیا۔

تاہم قریش کی اخلاقی بلندی کا اعتراف کرنا بھی ضروری ہے۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کے پاس صرف ایک لفظی دلیل تھی اور وہ دشمن ہوتے ہوئے اس کے آگے تھک گئے حالاں کہ بحث و تاویل کا دروازہ اتنا وسیع ہے کہ نہ ماننے والے ذہن کو کسی مقام پر بھی جھکنے کی ضرورت نہیں ، وہ اپنے زرخیز ذہن کو استعمال کر کے ہر بات کو اپنے مفید مطلب معنی پہنا سکتا ہے خواہ اس کے الفاظ کچھ بھی ہوں۔ کوئی دلیل اسی کے لئے دلیل ہے جو اس کے آگے جھکنے کے لئے تیار ہو۔ جو جھکنے کے لئے تیار نہ ہو، اس کے لئے کوئی دلیل، دلیل نہیں۔ قریش اگر ہٹ دھرمی کرتے تب بھی خدا کی مدد آتی۔ ظالم کی مدد پرسی مظلوموں کیلئے نصرت الہی کا دروازہ بند نہیں کرتی الا یہ کہ مظلوم خود ہی اپنی بداعمالی سے نصرت کا استحقاق کھو دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page