Al-Risala · May 1977 · page 16

تلاش کر لیتا ھے

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۱۶

اسلام کیا ہے؟

اسلام کوئی نیا مذہب نہیں۔ یہ اسی مذہب کا زیادہ جامع اور صحیح ایڈیشن ہے جو خدا کے دوسرے رسول پچھلے زمانوں میں لے کر آتے رہے۔

انسان اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے تخلیق کا شاہکار ہے۔ مگر صلاحیتوں کے ظہور کے اعتبار سے انسان اس دنیا کی سب سے زیادہ ناکام مخلوق ہے۔ ایک درخت ہزار برس تک ہرا بھرا کھڑا رہتا ہے۔ مگر انسان سو سال سے بھی کم مدت میں مر جاتا ہے۔ خوشیوں اور لذتوں سے ہم سیر نہیں ہو پاتے کہ وہ اچانک ہمارا ساتھ چھوڑ دیتی ہیں۔ انسان جب اپنے علم، تجربہ اور پختگی کی آخری انتہا کو پہنچتا ہے تو اچانک اس کی موت آجاتی ہے۔ کیا انسانی زندگی ایک المیہ ہے۔ جواب یہ ہے کہ نہیں۔ علم الموت (THANATOLOGY) اور سائنیکل ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ موت انسانی زندگی کا خاتمہ نہیں۔ مذہب اس دریافت کو مکمل کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ ہماری موجودہ زندگی، اصل منزل کی طرف محض ایک سفر ہے۔ انسانی زندگی کی مثال تودہ برف (ICE BERG) کی سی ہے۔ جس کا بہت تھوڑا حصہ اوپر نظر آتا ہے اور زیادہ حصہ سمندر کی گہرائیوں میں چھپا ہوا ہوتا ہے۔ موجودہ دنیا ہماری مدت حیات کا وہ مختصر حصہ ہے جس میں ہم اپنی اگلی طویل تر زندگی کے لئے تیاری کر رہے ہیں۔ ہماری زندگی کو ہمارے خالق نے دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ ایک، پیدائش سے لے کر موت تک۔ دوسرا موت کے بعد۔ موجودہ دنیا ہماری صلاحیتوں کے ظہور کے لئے نامکمل ہے۔ وہ زوال اور فنا کے قانون سے بندھی ہوئی ہے۔ یہاں ہم اپنی امنگوں اور سرگرمیوں کو آخری حد تک پورا نہیں کر پاتے۔ اسی کے ساتھ دوسری چیز یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی ایسی کار فرماتوت نہیں جو بھلے اور برے کو اپنے اپنے دائرہ میں رکھے۔ جو اس بات کی نگرانی کرے کہ عزت اور سر بلندی، انہیں کو ملے جو واقعی اس کے حق دار ہیں اور وہ لوگ لازماً اس سے محروم رہیں جنہوں نے اپنے اندر اس کا واقعی استحقاق پیدا نہیں کیا ہے۔ زندگی کا اگلا مرحلہ انھیں کیوں کی دائمی تلافی ہے۔

دنیا کی موجودہ صورت حال کی وجہ یہ ہے کہ خالق نے انسان کو یہاں آزادی اور اختیار دے رکھا ہے اور اپنے آپ کو عارضی طور پر غیب کے پردہ میں چھپا لیا ہے۔ جب تمام پیدا ہونے والے انسان پیدا ہو کر اپنے امتحان کی مدت پوری کر چکے ہوں گے تو زمین و آسمان کا قانون بدل دیا جائے گا۔ اور خدا اپنی طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہو جائے گا۔ اس کے بعد ایک ایسا عالم بنایا جائے گا جہاں موجودہ دنیا کی تمام کمیوں کو ختم کر کے اس کو ایک مکمل دنیا بنا دیا جائے گا اور انسان براہ راست خدا کے زیر حکم آجائے گا جس طرح آج بھی بقیہ دنیا براہ راست خدا کے زیر حکم ہے۔ بائبل کے الفاظ میں انسانی بادشاہت ختم ہو کر ” آسمانی بادشاہت “، شروع ہوگی۔ اس کے بعد انسان اپنی تمناؤں کی دنیا میں اپنی زندگی شروع کرے گا اور وہ سب کچھ مزید اضافہ کے ساتھ پالے گا جس کا آج وہ صرف خواب دیکھ سکتا ہے۔ مگر اس جنتی زندگی میں صرف انھیں لوگوں کو حصہ ملے گا جنہوں نے اپنی موجودہ زندگی میں اس کی تیاری کی ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page