تلاش کر لیتا ھے
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۱۷
جنھوں نے غفلت یا سرکشی میں موجودہ مواقع کو کھو دیا ہو، ان کے لئے اس اگلی زندگی میں بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ انسان کے سوا جو کائنات ہے، وہ آج بھی ہر قسم کے نقص سے خالی ہے۔ انسانی بستیوں سے دور فطرت کی دنیا کتنی حسین ہے۔ صبح کے وقت جب پہاڑوں اور درختوں کے اوپر سورج اپنی سنہری کرنیں پھیلاتا ہے اور چڑیوں کے چہچہے کے ساتھ نئے دن کا آغاز ہوتا ہے تو یہ ایسا بے پناہ منظر ہوتا ہے کہ دیکھنے والاچاہنے لگتا ہے کہ خود بھی اس آفاقی حسن کے اندر جذب ہو جائے۔ زمین کے سبزہ زاروں سے لے کر آسمان کےجگمگاتے ہوئے ستاروں تک کی یہ دنیا براہِ راست خدا کے زیر حکم ہے۔ یہ کثافت (POLLUTION) اور بدعنوانی (CORRUPTION) سے پاک ہو کر اپنا عمل کر رہی ہے۔ اس کے برعکس انسانی دنیا میں عارضی طور پر انسان کو اختیار ملا ہوا ہے ۔ اس اختیار اور آزادی نے انسانی دنیا کو جہنم کدہ بنا دیا ہے۔ جب اس صورت حال کو ختم کرکے انسانی دنیا میں بھی خدائی اقتدار قائم ہو جائے گا تو یہاں بھی اسی طرح ایک حسین دنیا وجود میں آجائے گی جس کا مشاہدہ ہم اپنے سے باہر کی دنیا میں کر رہے ہیں۔ جس طرح انڈے کے بظاہر سادہ خول کے اندر ایک مکمل زندگی کا امکان چھپا ہوا ہوتا ہے اور یہ امکان اتنا قوی ہوتا ہے کہ حالات کی مساعدت پاتے ہی خول توڑ کر باہر آجاتا ہے۔ اسی طرح ہماری موجودہ دنیا کے اندر ایک اور زیادہ مکمل دنیا کا امکان چھپا ہوا ہے۔ جب وقت آئے گا تو یہ امکان اپنے تمام ظاہری پردوں کو پھاڑ کر ظاہر ہو جائے گا۔ ”دنیا کے اندر دوسری دنیا کا چھپا ہونا“ ایک ایسی حقیقت ہے جو آج کے انسان کے لئے جانی بوجھی چیز بن چکی ہے۔ آج جب ہم ریڈیو یا ٹیلی وژن کھولتے ہیں تو اچانک ہم دریافت کرتے ہیں کہ ہمارے گرد پیش ایک ایسی دنیا موجود تھی جس سے ہم اپنا سیٹ کھولنے سے پہلے بالکل بے خبر تھے۔ جدید سائنسی انقلاب نے ثابت کیا ہے کہ ہماری دنیا کے اندر ایک اور، زیادہ مکمل دنیا، چھپی ہوئی تھی، مگر انسان صرف سو برس پہلے تک اس امکان سے قطعا بے خبر تھا۔ انسان اس زمین پر نامعلوم مدت سے آباد ہے اور تقریباً ۲۵ ہزار برس کے واقعات تو کسی نہ کسی درجہ میں تاریخی ریکارڈ میں آچکے ہیں۔ مگر اس طویل ترین تاریخ میں انسان کی واقفیت صرف ان ذرائع جہات تک محدود تھی جو ظاہری طور پر اس کو اپنی آنکھوں سے دکھائی دے رہے تھے۔ اب سے چند برس پہلے اگر کوئی شخص یہ کہتا کہ بیسویں صدی میں ہماری موجودہ دنیا ایک بالکل مختلف قسم کی دنیا میں تبدیل ہو جائے گی جہاں منصوبہ بند شہر ہوں گے۔ بٹن دبانے سے مکانات روشن ہو جایا کریں گے۔ انسان ہوا میں اڑے گا۔ وہ ریڈیائی لہروں کے ذریعہ خلائی راکٹوں کو کنٹرول کرے گا۔ انسان کی آواز ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں پورے کرہ ارض کا چکر لگالے گی۔ زمین کے کسی بھی حصہ میں رہنے والا ایک آدمی کسی بھی دوسرے حصہ کے ایک آدمی سے اس طرح بات کرے گا جیسے دونوں آمنے سامنے بیٹھے ہوں۔ انسان کی ہو بہو تصویریں اتاری جائیں گی اور وہ چاند اور دوسرے سیاروں کا سفر کرے گا۔ وغیرہ وغیرہ تو اس قسم کی باتیں لوگوں کو جادو اور طلسم کی باتیں معلوم ہوتیں ۔ مگر آج ہماری سابقہ دنیا کے اندر سے یہ دوسری دنیا نکل کر ہماری آنکھوں کے سامنے آچکی ہے۔
یہ ہے انسانی زندگی کی اصل حقیقت ۔ اس حقیقت سے انسان کو باخبر کرنے کے لئے خالق نے پہلا انتظام