تلاش کر لیتا ھے
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۱۸
یہ کیا کہ خود انسان کے اندر پیدائشی طور پر ایک برتر زندگی کا تصور رکھ دیا تا کہ وہ اپنی اندرونی طلب کے تحت اس کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتا رہے۔ ساری انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ ایک برتر زندگی کا خواب انسان کے اندرون میں اس طرح پیوست ہے کہ وہ کسی طرح اس کو نکال نہیں سکتا۔
اس برتر زندگی کو انسان کس طرح پاسکتا ہے ، اس کو بتانے کے لئے خالق نے یہ انتظام کیا کہ رسالت کا سلسلہ جاری فرمایا۔ ابوالبشر آدم نہ صرف پہلے انسان تھے بلکہ خدا کے رسول بھی تھے، جن کو خدا نے شعوری طور پر اپنی مرضی کا علم دیا تھا۔ اس کے بعد نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، اور دوسرے ہزاروں پیغمبر ہر ملک میں اور ہر بستی میں آئے اور ہر زمانہ میں انسان کو زندگی کی حقیقت بتاتے رہے اور اس واقعہ سے آگاہ کرتے رہے کہ یہ کائنات کس خاص منصوبہ کے تحت بنائی گئی ہے اور بالاخر اس کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ مگر ان پیغمبروں کے ذریعہ جو خدائی تعلیم انسان کے پاس بھیجی گئی، اس کو انسان بار بار ضائع کرتا رہا۔ یا تو اصل آسمانی متن ہی گم ہو گیا یا اس میں انسانی کلام اس طرح مل گیا کہ یہ معلوم کرنا ممکن نہ رہا کہ کون سا حصہ خدائی کلام کا ہے اور کون سادہ ہے جو انسان کے ہاتھوں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب انسانیت دورِ تاریخ میں پہنچ گئی۔ اس وقت خدا نے پیغمبر عربی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آخری کتاب بھیجی اور اپنی خصوصی مدد سے دوسرے تمام ادیان کو زیر کر کے اس کتاب کی بنیاد پر ایک طاقت ور سلطنت قائم کردی جو ایک ہزار سال تک پوری شان کے ساتھ چلتی رہی اور خدا کی آخری کتاب کی حفاظت کرتی رہی۔ اس کے بعد وہ وقت آیا جب انسانی تاریخ ایک قدم اور آگے بڑھی اور پریس کے دور میں داخل ہوگئی۔ پہلے قرآن کا ہر نسخہ الگ الگ ہاتھ سے لکھا جاتا تھا۔ اب یہ ممکن ہوگیا کہ ایک صحیح نسخہ لکھ کر اس سے کروڑوں نسخے چھاپ لئے جائیں۔ اس طرح قرآن میں کسی قسم کی تبدیلی کا امکان ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا۔ عرب کے پیغمبر جو دین خدا کی طرف سے لائے، اس کی حیثیت کسی نئے دین کی نہیں۔ یہ ٹھیک وہی دین ہے جس کو پچھلے نبیوں نے اپنے اپنے زمانہ میں پیش کیا تھا۔ قرآن کی حیثیت صرف یہ ہے کہ وہ پچھلی آسمانی تعلیمات کا مستند ایڈیشن ہے ۔ پیغمبر عربی نے خدا کے دین کو تاریخ کی حیثیت دے دی ہے ، جب کہ اس سے پہلے خدا کا دین محض افسانوی روایات کے مجموعہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اسی طرح پچھلے صحیفوں میں تحریف یا الحاق کے ذریعہ جو غلطیاں داخل ہوگئی تھیں ان کی اصلاح کی اور اس میں تکمیلی احکام کا اضافہ کر کے اس کو ایسا جامع صحیفہ بنا دیا جو قیامت تک انسان کی ضرورت پوری کرتا رہے۔ اسرائیلی انبیاء کے ذریعہ خدا نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ بعد کے زمانہ میں میں نیا عہد باندھوں گا جو میرا " ابدی عہد " ہوگا۔ (یوحنا ۔ ۱۴: ۱۶) موجودہ بائبل میں انجیل کو "نیا عہد نامہ" کہا جاتا ہے۔ مگر خدا کا نیا عہد نامہ حقیقتًہ قرآن ہے۔ انجیل تو صرف اس نئے عہد نامہ کی بشارت تھی نہ کہ خود نیا عہد نامہ تھی۔
اسلام کا ئنات کا دین ہے، وہ ہر انسان کے دل کی آواز ہے۔ وہ خدائی تعلیمات کا مستند ایڈیشن ہے