تلاش کر لیتا ھے
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۱۹
دونوں میں کشتی ہوئی ۔ پیغمبر اسلام نے رکانہ کو پٹک دیا۔ رکانہ کو بڑی حیرت ہوئی۔ اس کا خیال تھا کہ محمد اگر سچے بھی ہوں تو وہ زیادہ سے زیادہ روحانی آدمی ہوں گے۔ ان کو جسمانی طاقت سے کیا تعلق۔ اس نے سمجھا کہ شاید کسی اتفاقی سبب سے وہ کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس لئے وہ دوبارہ کھڑا ہو گیا ۔ اور بولا : ”ایک بار اور لڑوں گا! پیغمبر اسلام دوبارہ اس سے لڑے اور پھر اس کو پٹخ دیا۔ اب اسے یقین ہو گیا کہ محمد سے جیت نہیں سکتا۔ آپ نے اس کو وعدہ یاد دلایا۔ مگر وہ وعدہ سے پھر گیا اور یہ کہتا ہوا چلا گیا : ” تم جادوگر ہو ، بڑے جادو گر ہو “ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ باطل کی طرف سے حق کو جو چیلنج درپیش ہو، اہل حق کو ٹھیک اسی میدان میں اہل باطل کو شکست دینی چاہئے۔ اس کے بغیر حق کی طرف سے حجت کا اتمام نہیں ہو سکتا۔ اس معاملہ میں اہل حق کی تیاری اتنی اعلیٰ معیار کی ہونی چاہئے کہ اہل باطل کسی حال میں ان پر غالب نہ آسکیں۔ حتی کہ اگر تعصب اور ہٹ دھرمی کسی کے لئے قبول حق میں رکاوٹ بن جائے تب بھی یہ کہہ کردہ حق کی برتری کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو : ”یہ تو جادو ہے جادو۔ “ جس میدان میں چیلنج درپیش ہو اسی میدان میں باطل کو شکست دینا ہے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عرب میں ایک مشہور پہلوان تھا۔ اس کا نام رکانہ تھا۔ ایک روز ایسا ہوا کہ آپ مکہ کی گھاٹی سے گزر رہے تھے۔ وہاں رکانہ مل گیا۔ آپ لوگوں کی اصلاح و ہدایت کے انتہائی حریص تھے۔ جب بھی کوئی شخص ملتا، آپ چاہتے کہ کسی نہ کسی طرح اس کے سامنے اللہ کی بات پیش کر دیں۔ آپ نے بڑھ کر رکانہ سے ملاقات کی اور اس کے سامنے اللہ کا دین پیش کیا۔ اور کہا کہ اگر نجات اور کامیابی چاہتے ہو تو اس راستہ کو اختیار کر لو۔
رکانہ بولا : ”محمد! اگر یہ ثابت ہو جائے کہ آپ حق پر ہیں تو میں آپ کی بات مان لوں گا۔ “ وہ پہلوان آدمی تھا۔ اس کے نزدیک سب سے بڑی دلیل جسمانی طاقت تھی۔ آپ نے اس کے اپنے ذہن کے مطابق اس کو جواب دیا : ”اگر میں کشتی میں تمہیں زیر کر دوں تو کیا تم میری بات مان لو گے؟ “ اس نے کہا ہاں۔
”سادھارن گنوں سے اسادھارن منش بنتے ہیں“ یہ ہندی کی ایک سوکتی ہے عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بڑا انسان بننے کے لئے کوئی بڑا واقعہ چاہئے جو اس کو اخبار کی شاہ سرخی میں جگہ دے سکے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اکثر معمولی باتوں میں غیر معمولی انسان بننے کا راز چھپا ہوتا ہے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس راز کو جانتے ہوں