Al-Risala · May 1977 · page 20

تلاش کر لیتا ھے

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۲۰

اندروفات حالات پیداہوتے ہیں، اس ذریعہ سے دین اسلام | کی غلط فہمیاں دور ہوں اور خدا کے دین سے متوحش ہونے | نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر ایک کتاب لکھی ہے۔ یہ کتاب نہایت مہمل ہے اور زہر سے بھری ہوئی ہے۔ ایک ناول نگار کو کیا ضرورت پیش آئی کہ وہ پیغمبرِ اسلام کی سیرت پر اس قسم کی کتاب لکھے۔ اس کا جواب ڈاکٹر ہیوگو کے حالات زندگی سے ملتا ہے۔

ڈاکٹر ہیوگو کے زمانہ میں الجزائر پر فرانس نے قبضہ کر لیا تھا اور سیاسی لیڈروں کی تقریروں کی وجہ سے وہاں کے عام لوگوں میں فرانس کے خلاف سخت نفرت پیدا ہو گئی تھی۔ ایک روز ایسا ہوا کہ ڈاکٹر ہیوگو کسی ہوٹل میں گیا۔ وہاں ایک الجزائری مسلمان بھی تھا۔ کسی بات پر دونوں میں جھگڑا ہو گیا۔ ڈاکٹر ہیوگو نے مسلمان کو مارنے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ مگر الجزائری مسلمان پہلے ہی اس کے اوپر جھپٹ پڑا اور اس کی خوب پٹائی کی۔ اس موقع پر وہاں کچھ اور بھی الجزائری مسلمان موجود تھے۔ ایک فرانسیسی کے پٹ جانے پر وہ خوب خوش ہوئے اور تالیاں بجائیں۔ ڈاکٹر ہیوگو نے کہا " اب تو میں تمھارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ مگر جلد ہی میں ایک ایسا کام کروں گا جو نہ صرف تم سے بلکہ تمھاری نسلوں تک سے اس کا انتقام لے لے۔

اس جھگڑے کے پانچ ماہ بعد وہ کتاب منظرِ عام پر آئی جس کے ایک ایک فقرے میں پیغمبرِ اسلام کے خلاف زہر بھرا ہوا ہے۔

پاکستان کے سفیر برائے فرانس قدرت اللہ شہاب نے اس کتاب کی تردید میں ایک کتاب شائع کی ہے ۔ مسلمان معاندین اسلام کے خلاف جوابی کتاب لکھنے والے خدا کے دین کے قریب آنے لگیں ۔

"استعمار" کے خلاف پچھلی صدیوں میں جو سیاسی ہنگامے کئے گئے ہیں ان سے اسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا، البتہ یہ بہت بڑا نقصان ہوا کہ دوسری قوموں کے لئے اسلام پر غور و فکر کا ماحول ختم ہو گیا۔ مغربی قومیں ہمارے لئے دعوت کا موضوع بننے کے بجائے نفرت کا موضوع بن گئیں۔ مغرب کے لوگوں کو ہم نے اس نظر سے نہیں دیکھا کہ خدا کے یہ بندے ہمارے لئے مدعوکی حیثیت رکھتے ہیں اور ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کو خدا کا پیغام پہنچائیں۔ اس کے برعکس ہم سمجھنے لگے کہ یہ بدترین مخلوق ہیں۔ انھیں ذلیل کرنا اور ان سے دور رہنا ہی تقدس کی بہترین نشانی ہے۔ مولانا مملوک علی کو اپنی ملازمت کی وجہ سے کبھی کبھی انگریز سے مصافحہ کرنا پڑتا تھا۔ مگر اس کے فوراً بعد وہ غسل خانہ میں جاکر ہاتھ دھوتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ انگریز کو چھونے کی وجہ سے ان کا ہاتھ نجس ہو گیا ہے = دوسروں کے مقابلہ میں آپ کو کوئی بڑائی یا عزت مل جائے ، تو دوسروں کو حقیر نہ سمجھئے ۔ کیوں کہ بڑے اور چھوٹے دونوں بالآخر برابر ہو جانے والے ہیں ۔ اس کے بعد بڑائی اسی کے لئے ہوگی جس کو خدا بڑا بنائے ۔ اور چھوٹا وہ ہوگا جو خدا کے نزدیک چھوٹا قرار پائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page