Al-Risala · May 1977 · page 21

تلاش کر لیتا ھے

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۲۱

نفرت کے جواب میں نفرت پیدا ہوتی ہے اور محبت کے جواب میں محبت۔ اسی لئے اسلام نے یہ طریقہ سکھایا ہے کہ کسی کو غلطی کرتے دیکھو تو اس کو حکمت و محبت کے ساتھ سمجھاؤ جس طرح ایک باپ اپنے بیٹے کو سمجھاتا ہے عبداللہ ابن مسعود کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میں فجر کی جماعت میں اس لئے پیچھے رہ جاتا ہوں کہ فلاں صاحب ہماری مسجد میں نماز پڑھاتے ہیں اور وہ اس کو بہت لمبا کر دیتے ہیں آپ یہ سن کر غضبناک ہو گئے ۔ حتیٰ کہ اس زیادہ غضبناک میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پھر آپ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا :

یا ایھا الناس ان منکم منفرین، فمن ام منکم الناس فليتجوز، فان خلفه الضعیف والکبیر و ذالحاجة (بخاری)

لوگو، تم میں کچھ ایسے ہیں جو لوگوں کو دین سے دور کر دیتے ہیں۔ تم میں سے جو شخص لوگوں کی امامت کرے ، اس کو چاہئے کہ مختصر نماز پڑھائے، کیونکہ اس کے پیچھے کوئی کمزور ہے، کوئی بوڑھا، کوئی ضرورت مند۔ حضرت جابر سے ایک روایت میں بتاتے ہیں کہ معاذ بن جبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی مسجد میں نماز پڑھتے تھے، یہاں سے واپس ہو کر جاتے اور اپنے محلہ والوں کی امامت کرتے۔ ایک دن انھوں نے عشاء کی نماز پڑھائی اور اس میں سورہ بقرہ پڑھی۔ ایک آدمی لمبی قرات سے گھبرا کر نماز سے الگ ہو گیا۔ اس کے بعد حضرت معاذ اس سے کھنچے کھنچے رہنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ نے اس آدمی کو کچھ نہیں کہا۔ البتہ حضرت معاذ کی بابت فرمایا: فتان، فتان، فتان (فتنہ انگیز، فتنہ انگیز، فتنہ انگیز)۔ بخاری اس سلسلے کا سب سے زیادہ حیرت انگیز واقعہ ہے جب کہ ایک دیہاتی شخص آیا اور مسجد نبوی میں پیشاب کرنے لگا۔ لوگ اس کی طرف دوڑے تو آپ نے لوگوں کو روکا۔ جب وہ پیشاب سے فارغ ہو چکا تو آپ نے گندگی کی صفائی کرائی اور صحابہ سے فرمایا:

انما بعثتم میسرین ولم تبعثوا معسرین (بخاری) تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو سختی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے۔

قدیم زمانہ میں کعبہ کی عمارت ایک بار بارش کی زیادتی سے گر گئی تھی۔ قریش نے دوبارہ بنایا تو سامان کی کمی کی وجہ سے اصل بنائے ابراہیمی پر نہیں بنایا، بلکہ چھوٹا کر کے بنایا۔ آپ چاہتے تھے کہ اس کو دوبارہ بنائے ابراہیم کے مطابق بنوادیں مگر اس اندیشہ سے کہ کعبہ کی عمارت کے ساتھ جو تقدس شامل ہے اس کی وجہ سے لوگ شاید اس کے انہدام کا تحمل نہ کر سکیں، آپ اس سے باز رہے۔ آپ نے ایک بار حضرت عائشہ سے فرمایا :

لولا حد اثة قومك بالكفر لنقضت البيت ثم لبنيته على اساس ابراهيم اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر سے نہ نکلی ہوتی تو میں بیت اللہ کو توڑ کر پھر سے ابراہیم کی بنیاد کے مطابق بنا دیتا۔ جس اسلام میں انسان کی رعایت کا یہ حال تھا، اس اسلام کے علم بردار آج انسان کو متنفر کرنے ہی کا نام اسلام سمجھتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page