تلاش کر لیتا ھے
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۲۲
تعارف و تبصرہ تاریخ میو چھتری - مجلد ازمولانا حکیم عبدالشکور مرحوم صفحات ۶۱۴، ، ( قیمت درج نہیں )
پتہ : چودھری حسین میوہائی اسکول، نوح ضلع گڑ گاؤں کتاب کے مصنف مولانا حکیم عبدالشکور صاحب مرحوم ( ۱۹۴۱ ء - ۱۸۷۶ء ) نے اپنے مقدمہ میں اس کی تالیف کا مقصد پس ماندہ میو قوم کو بیدار کرنا بتایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ” میرا یقین ہے کہ وہ قوم جو تاثرات اور انقلابات کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہو جاتی ہے، وہ ضرور ایک نہ ایک دن فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔ کسی قوم کا مستقبل اس وقت تک شان دار نہیں بن سکتا جب تک اس کے شان دار ماضی کا نقشہ اس کے سامنے نہ ہو۔ “ صفحہ ۷ مصنف نے میوات اور میو قوم کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے لئے جو غیر معمولی محنت کی ہے، وہ یقیناً ان کے اخلاص کا ثبوت ہے۔ انھوں نے ” پیدائش انسان“ کے مسئلہ سے اپنی تحقیق کا آغاز کیا ہے۔ پھر انھوں نے دکھایا ہے کہ ” آریہ اقوام عربی الاصل اور آل ابراہیم ہیں“ اور یہ کہ ”حضرت ابراہیم اور بر ہماجی دونوں ایک ہیں “ اس طرح کی باتیں نہ صرف متنازعہ فیہ ہیں بلکہ کتاب کے موضوع سے خارج بھی ہیں۔ تاہم بحیثیت مجموعی کتاب اپنے موضوع پر قابل قدر ہے۔ جغرافیہ میوات، میو سماج، میواتی زبان و ادب، میوات کے آثار قدیمہ، میووں کے گوت پال، وغیرہ پر ان کی تحقیقات ان لوگوں کے لئے کافی دل چسپی کا باعث ہیں جو میووں کے بارے میں جاننے کا شوق رکھتے ہوں ۔ اس سلسلہ میں انھوں نے جو معلومات جمع کی ہیں، وہ بلاشبہ اس قابل ہیں کہ ان کی داد دی جائے۔
تاریخی حیثیت سے کتاب کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے مقصد تالیف کی حیثیت سے اس کی افادیت کو سمجھنا تبصرہ نگار کے لئے مشکل ہے۔ مؤلف کتاب نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ میو قوم کو اس کا " شاندار ماضی" یاد دلا کر اس کے اندر مستقبل کی تعمیر کا جوش وخروش پیدا کیا جاسکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ میوؤں کا وہ شاندار ماضی کیا ہے جس کو یاد دلا کر آپ یہ مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں : وہ شاندار ماضی یہ ہے کہ ان کے آبا و اجداد اول روز سے راجاؤں اور حکمرانوں سے جنگ کرتے رہے اور اس بے معنی تصادم کے نتیجہ میں مسلسل برباد ہوتے رہے۔ اس قسم کی تاریخی خوراک اس کے سوا اور کیا کر سکتی ہے کہ قوم کے اندر جنگ جوئی کا ذہن باقی رکھے اور دوبارہ جب اس کے سامنے کوئی ناخوش گوار صورت آئے تو پھر وہ یہی کرے کہ حقیقت پسندانہ انداز سے نمٹنے کے بجائے لڑنے بھڑنے کے لئے تیار ہو جائے۔
مؤلف کتاب نے صفحہ ۳۱ پر "میو قوم کی معرکہ آرائیوں " کا عنوان قائم کیا ہے اور ان معرکہ آرائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا ہے جو پچھلے تقریباً ایک ہزار برس سے یہ پسماندہ قوم جاری رکھے ہوئے ہے ۔
میو قوم پانچویں اور چھٹی صدی ہجری میں مسلمان ہوئی ۔ اس سے پہلے بھی یہ قوم لڑائی بھڑائی اور لوٹ مار کے لئے مشہور تھی ۔ اس کا یہ کردار اسلام کے بعد بھی قائم رہا ۔ شہاب الدین غوری، پرتھوی راج چوہان، قطب الدین ایبک، ناصر الدین محمود، غیاث الدین بلبن، بابر، اکبر، جہانگیر، شاہجہاں ، ہر ایک سے اس کا ٹکراؤ جاری رہا ۔ بھر تپور اور الور کے راجاؤں سے وہ مڈبھیڑ کرتی رہی۔ اس کے بعد انگریزوں کا دور آیا تو اس زمانہ میں بھی میوؤں