ایک نفسیاتی کم زوری جو
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۲۸
صل1ة التسبيح کیفیت سے بھری ہوئی عبادت کا نام ہے نہ کہ کسی لفظ کو تین سو بار دہرانے کا عبداللہ بن مبارک کے استاد عبدالعزیز ابن ابی رواد کا قول ہے :
"جو شخص جنت کا ارادہ کرے اس کو ضروری ہے کہ صلاۃ التسبیح کو مضبوط پکڑے ، تابعین کے دور سے لے کر اب تک کثرت سے لوگ اس پر عمل کرتے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی شخص زندگی میں ایک بار بھی اگر صلاۃ التسبیح پڑھ لے تو اس کی نجات ہو جائے گی ۔ یہ عقیدہ بعض روایتوں سے بنا ہے مثلاً ابوداؤد، ابن ماجہ ، بیہقی وغیرہ نے یہ روایت نقل کی ہے: عن ابن عباس ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال للعباس بن عبد المطلب، یا عباس یا عماہ الا اعطیک الا امنحک الا اخبرک الا افعل بک عشر خصال اذا انت فعلت ذلك غفر الله لك ذنبك اوله وآخره قديمه وحديثه خطأه وعمده صغيره وكبيره سره وعلانيته، ان تصلی اربع ركعات ۔ ۔ ۔
حضرت عباس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن مطلب سے کہا، اے عباس اے میرے چچا، کیا میں تمہیں ایک عطیہ دوں ، ایک بخشش کروں ، ایک بات کی خبر دوں ، کیا میں تمہیں دس خصلتوں کا مالک بناؤں ۔ جب تم اس کو کرو گے تو خدا تمھارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ پہلے اور پچھلے، نئے اور پرانے، غلطی سے کئے ہوئے اور جان کر کئے ہوئے، چھوٹے اور بڑے پوشیدہ اور علانیہ ، وہ کام یہ ہے کہ تم چار رکعت نماز (صلاة التسبیح) پڑھو ۔
اس کے بعد روایت میں اس مخصوص نماز کی ترکیب بتائی گئی ہے ، وہ یہ کہ الحمد اور سورہ پڑھنے کے بعد پندرہ مرتبہ چاروں کلمے سبحان اللہ ، الحمد للہ ، لا اله الا الله ، اللہ ا کبر پڑھے۔ پھر رکوع میں سبحان ربی العظیم کے بعد انھیں کلمات کو دس مرتبہ پڑھے ۔ پھر رکوع سے کھڑے ہو کر سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولك الحمد کے بعد ان کو دس مرتبہ پڑھے ۔ پھر دونوں سجدوں میں سبحان ربی الاعلی کے بعد ان کو دس دس مرتبہ پڑھے۔ پھر دونوں سجدوں کے درمیان جب بیٹھے تو ان کو دس مرتبہ پڑھے ۔ پھر جب دوسرے سجدہ سے اللہ اکبر کہتا ہوا اٹھے تو کھڑا ہونے کے بجائے بیٹھ جائے اور اس حالت میں دس مرتبہ ان کلمات کو پڑھ کر اللہ اکبر کہے بغیر کھڑا ہو جائے ۔ دو رکعت کے بعد ، اسی طرح چوتھی رکعت کے بعد ان کلموں کو دس دس مرتبہ پڑھے، پھر التحیات پڑھے۔ اس طرح تسبیح الہی کے یہ کلمات ان چار رکعتوں میں تین سو بار ادا کئے جاتے ہیں ۔ اسی طرح کسی قدر فرق کے ساتھ ایک اور طریقہ بھی بتایا گیا ہے ا صلاۃ التسبیح کے سلسلے میں سب سے پہلی قابل لحاظ بات یہ ہے کہ بخاری اور مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا ہے جو حدیث کی سب سے زیادہ مستند کتابیں سمجھی