Al-Risala · May 1977 · page 29

ایک نفسیاتی کم زوری جو

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۲۹

جاتی ہیں۔ اگر صحابہ کے زمانہ میں اس کا رائج ہوتا تو ضرور اس کو صحیحین کے اندر جگہ پانا چاہئے۔ اس وجہ سے بعض علماء کا یہ خیال درست معلوم ہوتا ہے کہ صلاۃ التسبیح ان نئے طریقوں میں سے ہے جو تبع تابعین کے دور میں رواج ہوئے۔ حتیٰ کہ ذہبی اور ابن جوزی نے صلاۃ التسبیح کی روایتوں کو موضوع قرار دیا ہے۔ اس کے رواۃ میں احمد بن داؤد کا نام ہے جس پر کذب کا الزام ہے۔ اسی طرح ابن سمعان کا نام ہے جس کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔

2 علماء کی ایک تعداد نے صلاۃ التسبیح کی حدیث کا اس بنا پر انکار کیا ہے کہ اتنا زیادہ ثواب صرف چار رکعت پر ناقابل فہم ہے ۳۔ اس حدیث کے جو الفاظ نقل کئے گئے ہیں، ان میں کلام نبوت کی شان نظر نہیں آتی۔ کوئی بھی شخص جس کی نظر احادیث رسول پر ہو، اس کے لئے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ آپ کا کلام عام طور پر اس انداز کا نہیں ہوتا جیسا کہ صلاۃ التسبیح کی روایتوں میں دکھائی دیتا ہے۔ راقم الحروف کی تحقیق اس سلسلے میں یہ ہے کہ صلاۃ التسبیح بذات خود بے اصل نہیں۔ کیونکہ خود قرآن میں متعدد مقامات پر اس کا ذکر ملتا ہے۔ البتہ اس کی وہ شکل یقینی طور پر بے اصل ہے جس کو نجات کا طلسماتی ذریعہ سمجھ کر عوام اختیار کئے ہوئے ہیں۔ قرآن کی صراحت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو متعدد بار حکم دیا گیا کہ نماز کی تسبیح کرو (ق۔ ۴۰) مگر کسی بھی صحیح روایت سے یہ ثابت ایک عرب کے پاس جب کوئی مہمان آتا ہے اور وہ اس کے سامنے کھانے پینے کی کچھ چیزیں رکھتا ہے تو ”کلوا“ نہیں کہتا بلکہ ”تفضلوا“ کہہ کر کھانا شروع کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ اسی طرح ہندوستان میں مہمان کے سامنے کھانا رکھنے کے بعد ”کھائیے“ نہیں کہتے بلکہ ”برکت دیجیے“ اور ”بخشش کیجئے“ کے الفاظ بولتے ہیں۔ اس کا مقصد صرف مہمان کی عزت و تکریم ہے۔ ایسا نہیں کہ جب کہا جائے تو آدمی عام طریقے سے بیٹھ کر کھائے اور جب ”تفضلوا“ یا ”برکت دیجیے“ کہا جائے تو پہلے وہ تین سو بار لفظ ”طعام“ کا ورد کرے، اس کے بعد کسی خاص انوکھی ہیئت سے بیٹھ کر ایک خاص ڈھنگ سے کھانا شروع کرے اور خاص ڈھنگ سے اس کو ختم کرے۔ کلام کا یہ انداز جو تمام زبانوں میں رایج ہے، اسی پر صلاۃ التسبیح کے معاملہ کو سمجھا جاسکتا ہے۔ قرآن میں کہیں کہا گیا ہے اقِمِ الصلوٰۃ اور کہیں کہا گیا ہے سبح بالعشی والابکار۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اقامت صلوٰۃ سے کوئی اور نماز مراد ہے اور تسبیح صلوٰۃ سے کوئی دوسری نماز۔ دونوں لفظوں سے وہی عام نماز مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے اور جو ساری عمر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب پڑھتے رہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کبھی حکم کے پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے نماز ادا کرو کہا جاتا ہے اور کبھی اس کی حقیقت و معنویت کے پہلو پر زور دینے کے لئے نماز کی تسبیح کرو کہہ دیا جاتا ہے۔ یعنی وہ نماز پڑھو جس میں روح صلوٰۃ پوری طرح اترائی ہو۔ جو پورے معنوں میں خدا کی تسبیح بن گئی ہو جو کہ نماز کا اصل مقصود ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page