Al-Risala · May 1977 · page 30

ایک نفسیاتی کم زوری جو

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۳۰

نہیں کہ آپ نے کبھی اس قسم کی "چار رکعت" نماز پڑھی ہو جو عام طور پر صلاۃ التسبیح کے نام سے مشہور ہے ۔ یہی واقعہ یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ صلوٰۃ تسبیح سے مراد کوئی علیحدہ طریقہ سے ادا کی ہوئی نماز نہیں بلکہ وہی عام نماز ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ پڑھا کرتے تھے ۔ یہ نا ممکن ہے کہ نبی کو خدا کی طرف سے ایک حکم دیا جائے اور وہ اس کی تعمیل نہ کرے۔ جب آپ کی زندگی میں " صلاۃ تسبیح " کے نام سے کسی علیحدہ نماز کا ثبوت نہیں ملتا تو لازماً ماننا پڑے گا کہ آپ کی وہی نماز آپ کی صلاۃ تسبیح تھی جو روزانہ آپ مسجد میں اور گھر کے اندر ادا فرماتے تھے اور ساری عمر ادا فرماتے رہے۔ تسبیح کی نماز (صلاۃ التسبیح) کوئی پُر اسرار اور انوکھی چیز نہیں۔ ہر نماز صلاۃ التسبیح ہے بشر طیکہ وہ حقیقی کیفیات کے ساتھ ادا کی گئی ہو۔ یہ اسی قسم کا ایک معاملہ ہے جس کا ذکر دوسرے اعمال شریعت کے سلسلہ میں کیا گیا ہے ۔ شریعت کے جو اعمال ہیں ان میں سے ہر ایک کی ایک ظاہری شکل ہے۔ مگر یہ اعمال اصلاً اپنے ظاہر کے اعتبار سے مطلوب نہیں ہیں بلکہ اپنی باطنی کیفیات کے اعتبار سے مطلوب ہیں۔ کوئی عمل اگر صرف ظاہری ڈھانچہ کی تکمیل کی حیثیت سے ادا کیا جائے تو اس کی کوئی قیمت خدا کی نظر میں نہیں ہوتی۔ مگر اسی عمل کے اندر جب خوف خدا اور فکر آخرت کی روح حج یا روزہ کا نام نہیں ہے۔ ہر وہ حج جو صحیح ہو حج مبرور ہے۔ اسی طرح ہر وہ روزہ جو حقیقی ہو صوم احتساب ہے۔ حقیقت اور کیفیت سے بھری ہوئی نماز کے لئے صرف صلاۃ التسبیح کا لفظ ہی نہیں آیا ہے بلکہ اس کے لئے قرآن میں اور بھی کئی الفاظ آئے ہیں:

صلاۃ وسطیٰ (بقره - ۲۲۸)

صلاة خشوع (مومنون - ۲)

صلاۃ انابت (روم - ۳۱)

صلٰوۃ ذکر (طہ - ۱۴)

صلٰوۃ تسبیح (نور - ۳۶)

تسبیح کے معنی عربی زبان میں پاکی بیان کرنے کے ہیں۔ خدا کے سامنے اس کی بڑائی اور اس کی نعمتوں کے اظہار کو بتانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس کو ”کرنا“، یا ”پڑھنا“ جیسے الفاظ میں ذکر کیا جائے، دوسرے یہ کہ اس کو تسبیح کے لفظ سے تعبیر کیا جائے۔ اردو میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ”خدا کا نام لو“ کے بجائے ”خدا کے نام کی پاکی بیان کرو“ کے الفاظ میں ظاہر کرنا۔ اسی دوسرے طریقے کا نام تسبیح ہے۔ اگر صلاۃ وسطی کا یہ مطلب نہیں کہ جب نماز پڑھو تو فلاں ترکیب سے مختلف رکعتوں میں اتنے سو بار ”وسطیٰ وسطیٰ“ کہو یا صلاۃ خشوع اور صلاۃ انابت سے یہ مراد نہیں کہ وقت خاص میں ایک ایسی نماز پڑھو جس میں خشوع اور انابت کے الفاظ کی اتنے سو بار تکرار کی گئی ہو تو صلاۃ تسبیح کا مطلب یہ کیونکر ہوگا کہ اسے نماز پڑھو جس میں تسبیح کا مطلب یہ چیز بن جاتی ہے، اور دوسری چیز بن جائے، یا بھر جائے تو وہ بالکل صحیح ارمانات، رسوم کی دوسری پیرائی بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی پسندیدہ ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً ہر عمل کے لئے اس قسم کے الفاظ آئے ہیں مثلاً حج مبرور اور صوم احتساب وغیرہ ۔ حج مبرور یا صوم احتساب کسی پر اسرار طریقہ پر کئے ہوئے کے کلمات مقررہ ترکیب کے تحت تین سو بار دہرائے گئے ہوں۔ نماز اپنی حقیقت کے اعتبار سے تمام تر تسبیح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں "صلّوا" (نماز پڑھو) بہت کم کہا گیا ہے۔ اس کے بجائے زیادہ تر أَقِمِ الصَّلَوٰةَ (نماز قائم

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page