ایک نفسیاتی کم زوری جو
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۳۱
کرو) یا سَبِّح بِحمدِ رَبِّک( (اللہ کے نام کی پاکی بیان کرو) جیسے لفظوں میں اس کا حکم دیا گیا ہے۔ گویا صلاۃ تسبیح کسی علیحدہ نماز کا نام نہیں ہے۔ بلکہ ہر اس نماز کا نام ہے جس میں نماز کی حقیقت پوری طرح مجسّم ہو گئی ہو۔ جب کسی نمازی کو یہ توفیق ملے کہ اس کا وجود سراپا اللہ کی عظمت و کبریائی کے تصور میں ڈھل جائے، جب اس کی نماز قرآن کے لفظوں میں صلاۃ سہو (ماعون) یا صلاۃ کسل (دنسار) نہ ہو بلکہ ہمہ تن ذکر اور انابت کی نماز بن جائے، تو اسی کا نام صلوٰۃ التسبیح ہے۔
صلاۃ تسبیح کی مروجہ شکل دراصل ایک کیفی حقیقت کو کیمیائی اصطلاحوں میں بیان کرنے کی کوشش ہے۔ یہ صحیح ہے کہ عوام کے لئے قابل فہم بنانے کے آسان اور تدریجی دوسری طرف بندہ اپنے عجز کا سارا سرمایہ لئے ہوئے اپنے آپ کو اس طرح اس کے آگے ڈال دیتا ہے جہاں زمان و مکان کی تمام قیود ختم ہو جاتی ہیں۔ الفاظ اور ڈھانچے کی تمام پابندیاں اضافی معلوم ہونے لگتی ہیں۔ انسان موجودہ دنیا میں رہتے ہوئے ایک اور دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ وہ بندہ رہتے ہوئے رب العالمین سے جا ملتا ہے۔ وہ اس وقت تسبیح خواں نہیں ہوتا بلکہ خود سراپا تسبیح بن جاتا ہے۔ اس کا قیام و قعود اور اس کا رکوع و سجدہ محض جسمانی عمل نہیں رہتا بلکہ اپنے سارے وجود کو خدا کی ہستی میں گم کر دینے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب کہ بندگی اور خدائی کی سرحدیں اتنی قریب آ جاتی ہیں کہ اقامت سے سرا قدم آگے بڑھ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی واقعہ ہے کہ کیفیت کو کمیاتی زبان میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ خصوصاً دینی کیفیات کو کمیاتی الفاظ میں مقید کرنے کی کوشش تو بدعت بھی ہے جو خدا اور رسول کے نزدیک قطعا مقبول نہیں ۔
صلاۃ تسبیح جس کیفی نماز کا نام ہے، اس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تا ہم اشاراتی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ وہ نماز ہے جب کہ بندے کے اوپر خدا کی عظمت وہیبت کا شدید غلبہ ہوتا ہے۔ نماز میں قرآن کی تلاوت اور تسبیح و دعا کے کلمات اس کے لئے محض کلمات نہیں رہتے بلکہ براہ راست خدا سے عرض و معروض بن جاتے ہیں ۔ بنیادی ڈھانچہ کے اعتبار سے اگر چہ اس وقت بھی آدمی مقررہ نماز ہی پڑھ رہا ہوتا ہے، مگر خدا سے حضوری کا غلبہ اور کیفیات کا امنڈتا ہوا سیلاب ساری رسمیات کو توڑ دیتا ہے۔ اس وقت ایک طرف خدا اپنے تمام جلال و جبروت کے ساتھ اس کے سامنے آجاتا ہے ، اور گویا آخرت سے پہلے بندے نے خدا کو دیکھ لیا ہو۔ صلاۃ التسبیح پوری زندگی کا نذرانہ ہے، نہ کہ چار رکعت نماز کا ایک وقتی کرشمہ۔ یہ نماز اس طرح نہیں پڑھی جاتی کہ آدمی کسی وقت ’’میں نیت کرتا ہوں چار رکعت صلاۃ التسبیح کی‘‘ کے الفاظ بول کر قبلہ رخ کھڑا ہوجائے۔ یہ نماز کسی بندہ خدا کے اندر سے اس وقت ابلتی ہے جب اس کا وجود ہمہ تن خدا کے خوف اور فکر آخرت میں ڈھل گیا ہو، جب اس نے اپنے آپ کو اپنے رب کی رضا کے لئے ملیامیٹ کر ڈالا ہو۔ صلاۃ التسبیح کو ادا کرنے کے لئے خاک و خون کے دریا سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ نہ صرف نماز کی تصغیر ہوگی بلکہ نعوذ باللہ خدائے ذو الجلال کی عظمتوں کا بھی کمتر اندازہ ہوگا اگر اس کو مقررہ کلمات کی چند سو بار تکرار کے ہم معنی سمجھ لیا جائے ــ عبادت بارگاہ الہیٰ میں بندے کا ہدیہ ہے۔ اس کی وہی تعبیر صحیح ہوسکتی ہے جو اللہ العالمین کی عظمت و کمال کے شایانِ شان ہو۔