ایک نفسیاتی کم زوری جو
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۳۲
آٹھ سال پہلے کی ایک تحریر الرسالہ کے زیر نظر شمارہ میں صفحہ اول پر جو مضمون درج ہے، وہ پچھلے نومبر ۱۹۷۹ میں لکھا گیا تھا۔ مگر جب وہ ہمارے پرنٹر پبلشر کے سامنے آیا تو انھوں نے اس کو چھاپنے کی رائے نہ دی۔ انھوں نے کہا: "سنسر شپ کے ذمہ دار اس کو اندرا گاندھی کے خلاف سمجھیں گے اور ہماری شامت آجائے گی"، مگر اس تحریر میں جو بات چھ ماہ پہلے لکھی گئی تھی، وہ آج واقعہ بن چکی ہے۔ سنسر شپ اور ایمرجنسی کے نفاذ سے بھی تقریباً ایک سال پہلے کی بات ہے۔ راقم الحروف نے اپنے دوست شری داس جیون ایم۔ اے (دہلی) کے سامنے سابق وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کی سیاست پر کچھ تنقید کی، وہ فوراً بولے: ”ارے صاحب، اندرا جی کو کچھ نہ کہئے، ہم ان کو درگا دیوی کے روپ میں دیکھتے ہیں“ ابھی تھوڑے دنوں پہلے تک یہ حال تھا کہ لوگوں کو یہ بات ناممکن سی نظر آتی تھی کہ اس ملک سے اندرا گاندھی کا اقتدار ختم ہو جائے گا۔ مگر خدا کا قانون جب ظاہر ہوتا ہے تو وہ کسی کے ساتھ امتیاز نہیں کرتا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد ہے: لن يفلح قوم ولو امراة وہ قوم فلاح نہیں پاسکتی جو عورت کو اپنا حکمراں بنائے اس حدیث کو نقل کرتے ہوئے راقم الحروف نے ۸ سال پہلے ہفت روزہ الجمعہ (۵ اگست ۱۹۶۹) میں جب خیمہ شریمتی اندرا گاندھی کی انتخابی شکست میں لوگوں کو صرف سیاست کا منظر نظر آرہا ہے۔ لیکن اگر دیکھنے والی آنکھیں ہوں تو اللہ تعالی نے اس کے ذریعہ سے لوگوں کو قیامت کا منظر دکھا دیا ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس جے ایم ایل سنہا نے ۱۲ جون ۱۹۷۵ء کو ایک فیصلہ دیا جس میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے الیکشن (۱۹۷۱ء) کو ناجائز قرار دیا گیا تھا۔ مگر اندرا گاندھی کی اولو العزم طبیعت نے ہار نہیں مانی۔ انھوں نے اپنے عہدہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ۲۵ جون ۱۹۷۵ء کی رات کو ایمرجنسی لاگو کردی۔ اب سارے ملک میں ایک نیا عمل شروع کر دیا گیا۔ تمام ناپسندیدہ افراد جیلوں میں بند کر دیئے گئے۔ مخالفت جماعتوں کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا۔ پریس پر سنسر قائم کر دیا گیا۔ ہر قسم کے اشاعتی ذرائع کو مکمل طور پر سرکاری پروپیگنڈے کے لئے وقف کر دیا گیا۔ عدالت کو ایک آزاد ادارہ کی حیثیت سے ختم کر دیا گیا۔ دستور میں ترمیم کر کے اس کو مکمل طور پر اپنے موافق بنالیا گیا۔ ایسے قوانین جاری ایک مضمون شائع کیا تھا ۔ اس میں کہا گیا تھا : " جب بھی عورتوں کو مطلق اختیار دیا گیا ، انھوں نے ریاست اور قوم کے اندر تباہی برپا کی ہے۔ تاریخ میں بہت سے واقعات ہیں جو (لارڈ ایکٹن کے) اس مقولہ کی تصدیق کرتے ہیں کہ " اقتدار بگاڑتا ہے اور کامل اقتدار بالکل بگاڑ دیتا ہے " یہ کامل اقتدار اگر عورتوں کو مل جائے تو