Al-Risala · May 1977 · page 33

اکھاڑ دیئے جائیں گے

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۳۳

اکھاڑ دیئے جائیں گے

کئے گئے جن کے تحت حکومت کسی شخص کو جرم بتائے بغیر نے اچانک سارے استحکامات کو اس طرح ڈھادیا جیسے کہ گرفتار کر سکتی تھی اور نامعلوم مدت تک کے لئے اس کو جیل وہ ریت کی دیوار سے بھی زیادہ بے حقیقت تھے۔ نبہرو خاندان میں محبوس رکھ سکتی تھی۔ اپنی پوزیشن کو یہاں تک محفوظ کیا کی پچاس سالہ عظمت کا وارث صرف ایک دن میں بے یار و گیا کہ دستور میں چالیسویں ترمیم کے ذریعے طے کر دیا گیا کہ۔ مددگار ہو کر رہ گیا۔

وزیر اعظم اپنے کسی بھی عمل کے لئے کسی بھی ملکی عدالت میں یہ واقعہ آخرت میں ہونے والی عدالت کا ایک چھوٹا سا جواب دہ نہیں ہیں۔ حتی کہ حکومتی عہدہ سے الگ ہونے کے نمونہ ہے۔ دنیا میں آدمی اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لئے بعد بھی نہیں۔ اس طرح کی بے شمار تدبیروں کے ذریعہ سابق دلائل کے پہاڑ کھڑے کرتا ہے۔ وہ دولت و عزت اور جاہ و وزیر اعظم نے ملک میں اپنی پوزیشن کو اتنا زیادہ مضبوط کر لیا منصب کے قلعے تعمیر کرتا ہے۔ اقتصادی ذرائع پر قبضہ کر کے جتنا شاید پوری تاریخ میں کسی بھی حکمراں نے نہیں کیا تھا، اسی اپنے مستقبل کو محفوظ کرتا ہے۔ اپنے گرد بڑی بڑی عمارتیں کا نتیجہ تھا کہ ان کو یہ اعلان کرنے کی جرات ہوئی کہ ”ایمرجنسی بنا کر سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے بچاؤ کا آخری انتظام کر لیا سے پہلے والے حالات اب کبھی واپس نہیں آئیں گے، ان کو ہے ۔ مگر جب قیامت آئے گی تو سارے مضبوط خیمے اکھڑ جائیں یقین تھا کہ نہ صرف وہ آخر تک ملک کے اقتدار پر قابض رہیں گی گے۔ انسان اچانک پائے گا کہ وہ سب سے بڑی عدالت کے بلکہ ان کے بعد ان کا خاندان اس کا وارث بنتا رہے گا۔ سامنے بالکل بے بس کھڑا ہوا ہے۔

مگر چھٹے عام الیکشن نے ثابت کیا کہ تمام پیش بندیوں زندگی کی سب سے زیادہ سنگین حقیقت یہ ہے کہ کے باوجود آخری عدالت کا فیصلہ الہیٰ تھا۔ یہ ملک کے سارے انسان خدا کے بندے ہیں۔ ہر ایک کو ہر حال ایک روز عوام کی عدالت تھی ۔ مارچ ۱۹۷۷ء میں سابق وزیر اعظم خدا کی عدالت میں پیش ہونا ہے۔ عقل مند وہ ہے جو اس کا مقدمہ دیس کی جنتا کے سامنے آیا۔ اور اس کے ایک فیصلہ آنے والے دن کی تیاری میں اپنے آپ کو لگا دے۔ اکثر اوقات وہ پوری قوم کے بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ یہی کے لئے توہین کی بات ہوگی کہ ایک عورت کو امریکہ کا پریسیڈنٹ وجہ ہے کہ مغرب میں بھی کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی عورت کو بنایا جائے۔ فرانس میں جہاں عورتوں کا کافی اثر ہے ایک ملک کا اعلیٰ ترین عہدہ سونپا جائے۔ کوئی عورت کبھی وزیر اعظم نہیں بنائی گئی۔ ڈینگل کیبنٹ میں امریکہ میں جہاں سمجھا جاتا ہے کہ عورتوں کو بہت صرف ایک عورت تھی جو سماجی امور کے محکمہ میں منسٹر آفت زیادہ برتری حاصل ہے، کسی عورت کو کبھی سکریٹری آف اسٹیٹ تھی۔ برطانی کیبنٹ میں مسٹر باربرا کیسل کو ایک اہم اسٹیٹ نہیں بنایا گیا ۔ یہ غالباً امریکہ کے مردوں اور عورتوں عہدہ دیا گیا۔ مگر یورپ اور امریکہ میں عورتوں کو عہدہ دینے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page