نمائندے یہ تھے :-
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۲۹
عشاء کی نماز کو جاتے ہوئے طیب صاحب سے ملاقات ہوئی پہلے وہ مصری سفارت خانہ میں تھے۔ اب یہاں آگئے ہیں۔ جبہ کے ہندوستانی سفارت خانہ نے انھیں ہم لوگوں کی خیر خبر کے لئے مامور کیا تھا کہ کون کون آیا ہے، کہاں ٹھہرا ہے۔ بہت دیر تک مولانا ان سے گفتگو فرماتے رہے۔ اس کے بعد جلسہ عام میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے وہاں کچھ مقالات شیخ ابن باز کی تقریر ہوئی۔ ۲۴ اکتوبر:۔ صبح کے معمولات سے فراغت کے بعد آٹھ بجے جلسات میں شرکت کی اور پونے ۱۰ بجے کے قریب تمام مندوبین ایک جگہ جمع ہوگئے اور پھر تمام مہمانان حکومت کےروں کے ایک قافلہ کی صورت میں قصر ملکی کی طرف روانہ ہوئے اور غالباً ۱۰ منٹ میں سب وہاں پہنچ گئے۔ سب کو ایک بہت بڑے اور شان دار ہال میں بٹھایا گیا جہاں سب کی قہوہ سے مدارات کی گئی۔
ساڑھے دس بجے کے قریب امیر فہد (جو ولی عہد سلطنت اور نائب رئیس الوزراء ہیں اور جنھیں جلالۃ الملک شاہ خالد اپنی جگہ قائم مقام بنا کر مصر گئے ہیں) تشریف لائے اور سب سے فرداً فرداً مصافحہ ہوا اور ولی عہد امیر فہد سے جب سب لوگ فرداً فرداً ملاقات کرچکے تو اس کے بعد دو مختصر تقریریں ہوئیں۔ ایک مصری مندوب نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ بینکوں کے سود کا کاروبار ختم کر دو یہ حرام ہے اور تم اللہ کے یہاں جواب دہ ہو۔ اس پر انھوں نے فرمایا دعا کرو اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔ ایک دوسرے مغربی نے دعائیہ تقریر کی اس پر انھوں نے بھی دعائیہ کلمات فرمائے۔
اس کے بعد پھر چائے اور قہوہ کا دور چلے۔ پہلے قہوہ آیا پھر چائے چلی، پھر قہوہ آیا۔ اس میں خود امیر فہد بھی شریک رہے یہ ختم ہوا تو امیر فہد نے تقریر فرمائی۔
امیر فہد کی مختصر تقریر اسلامی نظام، اسلامی محاسن، اس کی رفاہیت اور امن وغیرہ موضوعات سے متعلق تھی اور فرمایا کہ اس طرح کی کانفرنس جب یہاں یا کسی اور جگہ ہوگی تو ہم حاضر ہیں انشاء اللہ پورا پورا تعاون دیں گے۔
مندوبین کی طرف سے جواب میں ابو ظبی کے قاضی القضاة احمد بن عبد العزيز آلِ مبارک نے حمد و ثنا اور شکر کے بعد کہا کہ تم لوگوں کو چاہئے کہ ملوک ورؤ ساء مسلمین کو شریعتِ حقہ کے نفاذ پر توجہ دلاؤ، تمھاری آواز بھی سنی جاتی ہے۔ اور یہ تمھاری ذمہ داری بھی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ تم اللہ تعالی کے یہاں سرخرو ہو گے اور اس کا اجر بھی ملے گا۔
شام کو جلسہ عام ہوا۔ اس کا اہتمام ایک بہت بڑے ہوٹل میں کیا گیا تھا۔ حاضرین بھی بہت بڑی تعداد میں تھے۔ ۲۷ اکتوبر : حضرت مولانا اسعد مدنی کا مقالہ پہلے ہی شائع ہو چکا تھا۔ صبح کو جب لجنات کے جلسے ہوئے تو اس میں حضرت مولانا کے مضمون کا خلاصہ پڑھا گیا۔ اس کے بعد اس پر بحث مباحثہ ہوا۔
شام کو امام محمد بن سعود یونیورسٹی کے مدیر مکتبات کی طرف سے عصرانہ تھا اس کے بعد برج ریاض میں مغرب کی نماز اور رات کا کھانا کھایا۔ یہ برج سولہ منزلہ ہے اور امریکہ کے بعد دنیا کا سب سے بڑا برج بتایا جاتا ہے سقف مدور حصہ کی ہر طرف کم از کم پچاس پچاس فٹ ہوگی اور اس کے بعد کھلا ہوا ہر طرف کم از کم پچاس فٹ چوڑا حصہ ہے مسقف حصہ اپر کنڈیشنڈ ہے وہیں مغرب کی نماز با جماعت ہوئی بعد ازاں وہیں ضیافت کا اہتمام ہوا یہیں یہ اطلاع بھی ملی کہ تمام وفود کو عمرہ کے لئے جایا جا رہا ہے۔
۲۸ اکتوبر :- ناشتے کے بعد لجنات ( کمیٹیوں) کی میٹنگیں شروع ہوئیں اور عہدیداران لجنة تجویزوں کی تیاری میں مصروف ہو گئے۔ بعد عصر شیخ عبد الفتح ابو غدہ کے یہاں عصرانہ تھا۔ یہاں ایک ڈاکٹر صاحب نے فرمائش پر تفصیل کے ساتھ بتایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تین قرن ایسے گزرے ہیں کہ جس کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ پھر یہود کی سازش، کچھ لوگوں کا ایک اجتماع ہوا، اور کیتھولک مذہب شروع ہوا اور مختلف لوگ مختلف قسم کے نسخے لے کر کھیل گئے۔ لیکن جب قسطنطین اول کی ماں سے عیسائیت قبول کرنے کے لئے کہا گیا تو اس نے یہ عذر کیا کہ کس انجیل کو مانے اور اس پر عمل کرے اور اصل عیسائی مذہب کون سا ہے۔ مشورے کے بعد
‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues