Al-Risala · January 1977 · page 3

نمائندے یہ تھے :-

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۳

ڈھائی ہزار لوگ جمع کئے گئے اور تقریباً سو نسخے انجیلوں کے جمع کئے گئے جن میں سے چائے شلیٹ کے موقر نسخے تھے۔ تقریباً ساٹھ حاضرین کے اتفاق رائے سے چار نسخے مانے گئے باقی رد کر دیئے گئے۔ ایک بزرگ شخص نے جس کا اثر شام اور ترکستان پر تھا وہ موحد تھا اور حضرت عیسی علیہ السلام کو بشر مانتا تھا اس نے اختلاف رائے کیا۔ آخر یہ اجتماع ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد دوبارہ ان ساٹھ کا اجتماع ہوا جس میں اس موحد کو خارج از نصرانیت اور واجب القتل قرار دیا گیا اور ان ہی یہودیوں کی سازش سے کیتھولک سے پروٹسٹنٹ اور شاخ در شاخ ہوتے چلے گئے۔ ظہور اسلام کے بعد اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہو گئے اور تمام صلیبی جنگوں میں ان کا ہاتھ رہا ہے۔ یہی عیسائیوں کو ابھارتے، یہی ان سے خفیہ معاہدے کرتے اور ان کو قرض دے کر ان کے لشکروں کو مسلح کرتے اور لڑائیاں کراتے رہے۔

آج کا جلسہ عام بہت پر جوش تھا۔ اس میں مستشرقین کے بارے یہ طریقہ ہے کہ زوال سے قبل اذان دے کر خطبہ شروع کر دیتے ہیں اور زوال ہوتے ہی نماز جمعہ شروع ہو جاتی ہے۔ نماز کے بعد محمد نقشبندی صاحب کے یہاں دوپہر کی دعوت میں تشریف لے گئے اور ہوٹل واپس آگئے۔ عصر کے بعد نیچے اترے تو مغرب کی نماز میں دو ندوی حضرات سے ملاقات ہوئی۔ یہ حضرات کل تشریف لائے ہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ عبدالمحسن ترکی سے بھی ملاقات ہوئی۔ ابھی ان کے ساتھ بیٹھے ہی تھے کہ شیخ محمود صوفی تشریف لے آئے۔ ہم نے گزشتہ شب کے مستشرقین سے متعلق مقالہ پر مبارک باد دی۔ یہاں سے اٹھنے کے بعد قطر کے نمائندے سے ملاقات ہوئی اور مختلف امور پر گفتگو ہوتی رہی۔

۳۰ اکتوبر :۔ آج موتمر کا اجلاس عام تھا۔ اس میں تجاویز پر غور و بحث تھی۔ تجاویز اراکین کو تقسیم کی گئیں اور چند منٹ ان کے مطالعہ کے لئے دیئے گئے۔ پھر ان کی اجمالی منظوری لے لی گئی۔ اس کے بعد ایک ایک جز پر بحث و ترمیم اور ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہوا اور تقریبًا آٹھ گھنٹے لگاتار یہ تبادلہ خیال اور ٹٹنگ ہوتی رہی۔ میں مقابلہ تھا یہ جس طرح اسلام کو نرخ کر کے ابہامات پیدا کرنے ، اسلوب ڈالنے عقائد میں تزلزل پیدا کرتے اور نوجوانوں میں بد اخلاقی پھیلانے اور مغربی تہذیب میں جذب کرنے کا کام پورے انہماک ، لگن اور جوش و جذبے کے ساتھ کرتے ہیں ۔ نیز ممالکِ اسلامیہ کو برباد کرنے کی لگن میں (اور تقریباً ڈھائی گھنٹے تک چلا۔ آخر میں تجاویز کو ایک پانچ نفری کمیٹی کے سپرد کیا گیا کہ وہ اس پر مزید غور و بحث کر کے اس کو آخری صورت دیں۔ ظہر کے وقت جلسہ ختم ہوا۔ عصر کے وقت ہم لوگ ایک پرانی آبادی کو دیکھنے گئے اور مغرب بعد امیرِ علاقہ ریاض امیر سلیمان بن عبدالعزیز کی لگے رہتے ہیں۔

دوسرا مقالہ صہیونیت پر تھا، تاریخی، فکری اور عملی طور پر اس تحریک کے تحت کیا کچھ ہوا ہے اور کتنے خطرات اس تحریک میں مضمر ہیں حاضرین میں سے کم وبیش ہر شخص اس پر بولنے کے لئے بے چین تھا، چنانچہ لوگ وقت لے لے کر بولے۔ سب کے اندر بڑا جوش وخروش پایا جاتا تھا لوگ جلسہ ختم نہیں کرنا چاہتے تھے۔

۲۹ اکتوبر:۔ آج جمعہ تھا۔ صبح ہی سے حضرت مولاناکو متعدد طرف سے ضیافت کا اہتمام تھا۔ ریاض سے کئی میل دور کھلے میدان میں خیمہ لگا کر قالین وغیرہ کا پرانے طرز پر انتظام کیا گیا تھا۔ خود امیر سب کا استقبال کیا۔ قہوہ اور چار چلی۔ اسی اثنا میں اذان ہوگئی۔ سب نے جماعت سے نماز پڑھی، پھر برابر کے خیموں میں چلے گئے، جہاں پہلے سے دستر خوان بچھے تھے اور عربی اور اسلامی طریقہ پر زمین پر بیٹھ کر کھانا کھایا گیا۔ متعدد اقسام کے نہایت لذیذ کھانے تھے۔ کھانے کے بعد قہوہ کا دور ہوا اور پھر سب سے رخصت ہو کر ہوٹل واپس آئے۔ تبیعیفون آنے رہے۔ ریاض صادق کے بعد ہی جب ہم حضرت مولانا اسعد مد کے ہمراہ نیچے اترے تو دیکھا کہ ہال عمرہ کے لئے جانے والوں سے بھرا تھا۔ اسی وقت فجر کی نماز جماعت سے ہوئی ۔ اس کے بعد وہ لوگ روانہ ہوئے۔ حضرت مولانا عمرہ کے لئے تشریف نہیں لے گئے۔ چونکہ آپ کو ابھی قیام کرنا ہے اور فریضہ حج بھی ادا کرنا ہے۔ حضرت مولانا ناشتہ سے فارغ ہو کر نہا دھو کر ڈاکٹر عبد الحنان کے ساتھ شہر تشریف لے گئے۔ یہاں ماہنامہ جنوری ۱۹۷۷ء ۳۱ نومبر - ظهر کے بعد ادواری اجلاس ہوا، جس میں توصیاد قراررات پڑھی گئیں، وزیر تعلیم سعودی عرب اور مدیر ءجامعہ امام محمد بن سعود الاسلامیہ نے تقریریں کیں ۔ وفود کی طرف سے بھی تقریریں ہوئیں ۔ ایک قصیدہ ہوا اور شیخ احمد بن باز کی دعا پر جلسہ ختم ہوا ۔ بعد عشا جامعہ کے طلبا کی طرف سے جلسہ اور کھانے کی دعوت تھی کھانے کے بعد یہ مجلس چار پر ختم ہوئی ۔ ( روزنامہ الجمعیۃ )

‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues

Printed page