Al-Risala · May 1977 · page 39

مر گیا مردود فاتحه نه درود

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۳۹

جس میں کہا گیا ہے کہ جب دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور تمام لوگ خدا وند عالم کے سامنے کھڑے کر دئے جائیں گے تو ہر ایک دم بخود ہو گا۔ وہ لوگ جن کے پاس دنیا میں ہر بات کا جواب دینے کے لئے الفاظ کا دفتر ہوا کرتا تھا، وہاں اس طرح خاموش ہوں گے جیسے ان کے منھ میں زبان ہی نہیں۔

آج لوگوں کا یہ حال صرف اتنی سی بات پر ہو رہا ہے کہ اقتدار کی کرسی سے ان کو ہٹا دیا گیا ہے۔ جب کہ سیاسی اقتدار کے علاوہ زندگی کی تمام سہولتیں اب بھی ان کو پوری طرح حاصل ہیں۔ مگر قیامت کا دن تو وہ دن ہو گا جب کہ لوگوں سے صرف اختیارات ہی نہیں چھینے جائیں گے بلکہ ضرورت اور عیش کے تمام سامان بھی ان سے واپس لے لئے جائیں گے۔ اس وقت آدمی کے پاس اپنے جسم کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ کیسا سخت ہو گا وہ دن۔ مگر آدمی اتنا بڑا ظالم ہے کہ ایک لمحہ پہلے بھی ہوش میں آنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔

تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ انسان کو اس زمین پر مطلق اقتدار حاصل نہیں۔ اس دنیا کا نظام ہم سے ماورا ایک طاقت ور قانون کے تحت چل رہا ہے۔ ہم اگر یہاں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اس کی ایک ہی صورت ہے۔ وہ یہ کہ ہم اس بالاتر قانون کے ڈھانچہ میں اپنی زندگی کا نقشہ بنائیں۔ اگر ہم نے اس کو نظر انداز کرکے چلنا چاہا تو ہمارا وہی انجام ہو گا جو ایک انجینیر کا اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ ایک چلتی ہوئی لوہے کی مشین کے اندر اپنا ہاتھ ڈال دے۔ لوہے کی مشین کے مقابلہ میں حقیقت پسندی کا انداز اختیار کرنا کوئی نہیں ہوتا۔ مگر یہی بات عظیم تر مسئلہ کے بارہ میں ہر شخص بھول جاتا ہے۔ یہ انسان مسلم اسپین کی تاریخ پر جو کتابیں لکھی گئیں، ان میں سے ایک کتاب کا نام ہے:

اخبار مجموعہ في فتح الاندلس وذكر امرائها رحمهم الله والحروب الواقعة بها بينهم یہ کتاب غالباً گیارھویں صدی عیسوی میں لکھی گئی اور ۱۸۶۷ء میں پہلی بار مجریط (میڈرڈ) سے شائع ہوئی۔ اموی دور حکومت میں افریقہ کے بربری قبائل کی بار بار بغاوت کا ذکر کرتے ہوئے اس کا مصنف لکھتا ہے: ”بربری اپنے عُمال کی حرکتوں سے تنگ آکر اکثر بغاوت کر بیٹھتے تھے۔ اس زمانہ میں یہ دستور تھا کہ خلیفہ اور اس کے بیٹوں کو جب ضرورت ہوتی، وہ عُمال طنجہ سے ایسی کھالیں طلب کرتے تھے جو حاملہ بکریوں کا پیٹ چاک کرکے ان کے بچوں سے حاصل کی جاتی تھیں۔ اسی کے ساتھ یہ شرط بھی لگا دیتے تھے کہ چمڑا شہد کے رنگ کا ہونا چاہئے۔ چنانچہ اکثر ایسا ہوتا کہ سو سو بکریاں ذبح کی جاتیں اور ان میں ایک چمڑا بھی شرائط کے مطابق نہ ملتا یہ بات بربریوں کی تکلیف اور ان کی برہمی کا باعث بنتی تھی۔ (۶۶)

انسان کو جب اقتدار ملتا ہے تو اپنی بڑائی کے زعم میں وہ کیسی کیسی حرکتیں کرتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اس کے اوپر بھی ایک صاحبِ اقتدار ہے اور عنقریب اس حال میں اس کے یہاں حاضر کیا جائے گا کہ وہ اس کے سامنے بکری سے بھی زیادہ بے زور ہوگا اور ایک مرے ہوئے بچے سے بھی زیادہ بے حقیقت ۔ تاریخ کا سب سے عجیب المیہ یہ ہے کہ انسان نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page