Al-Risala · May 1977 · page 40

مر گیا مردود فاتحه نه درود

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۴۰

لگ خوش ہورہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے کوئی بہت بڑا قلعہ فتح کر لیا ہے۔ گویا فتح مبین دوبارہ نئی شکل میں واپس لوٹ آئی ہے۔ مگر میرا دل غم سے پھٹا جارہا ہے۔ شاید میرے جیسے آدمی کے لئے اب اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ وہ جنگل میں چلا جائے ۔ جنگل کے درخت کسی خدا کے بندے کے لئے زیادہ بہتر ہم نشیں ہیں۔ چڑیوں کے نغموں میں انسانوں کے قہقہوں اور تقریروں سے زیادہ بامعنی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ ایک انتہائی ہولناک قسم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہر اس شخص کا انتظار کر رہی ہے جس کی موت اس حال میں آجائے کہ اس کا خدا اس سے راضی نہ ہو۔ یہ یہی سارے انسانوں کا اصل مسئلہ ہے اور اسی سے تمام قوموں کو آگاہ کرنے کے لئے مسلمان، اس زمین پر خدا کے گواہ بنائے گئے ہیں۔ مسلمان کی فتح یہ ہے کہ وہ صحیح معنوں میں اس حقیقت کا گواہ بن کر لوگوں کے سامنے کھڑا ہو سکے۔ اس کی شکست یہ ہے کہ وہ اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرنے میں ناکام رہے ۔

مسلمان کے کسی عمل کی قیمت صرف اس وقت ہے جب کہ اس کے رب کے نزدیک اس کا کوئی تعلق گواہی کے نازک کام سے ثابت ہو سکے۔ اس حیثیت سے دیکھنے تو یہ سارے ہنگامے نہ صرف غیر متعلق ہیں بلکہ وہ ہمارے لئے جرم کا درجہ رکھتے ہیں مسلمان کو اس دنیا میں اس لئے کھڑا کیا گیا تھا کہ وہ لوگوں کو آخرت کے عذاب وثواب کی خبر دیں۔ مگر اپنی "انقلابی" تحریکوں سے وہ لوگوں کو صرف دنیا کے عذاب و ثواب کی خبر دے رہے ہیں۔ کتاب آسمانی کے حامل گروہ کے لئے اس قسم کی سرگرمیاں بلاشبہ جرم کا درجہ رکھتی ہیں۔ یہ لوگوں کو مسائل آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے بجائے مسائل دنیا کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ یہ الٹی گواہی ہے جو قیامت کے دن ہمارے لئے بہت بڑا وبال بننے والی ہے۔ اس کی سنگینی ممکن ہے دنیا کی زندگی میں سمجھ میں نہ آئے مگر اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ مرنے کے بعد وہ اس تلخ حقیقت کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ اگر چہ اس وقت کا دیکھنا ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔ پھر دنیوی نتائج کے اعتبار سے بھی اس قسم کے ہنگاموں کی کوئی قیمت نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی سیاسی انقلاب خواہ وہ کتنا ہی کامیاب ہو، وہ صرف اسی کے حق میں مفید بنتا ہے جس نے انقلاب سے پہلے اس کے لئے تیاری کی ہو۔ یہ درس ہم کو دو سو برس پہلے مل چکا تھا۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ لوگ آج بھی اس سے اتنا ہی بے خبر ہیں جتنا کہ وہ کبھی پہلے تھے۔ آج بھی وہ صرف "انقلاب زندہ باد" جیسے نعروں کے لئے جوش و خروش دکھاتے ہیں۔ خود اپنی تعمیر و استحکام کے لئے ان کے اندر کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی جو کہ قوموں کے لئے کرنے کا اصل کام ہے۔

اٹھارویں صدی کے وسط (۷۹۔ ۱۷۷۴ء) میں شاہ ولی اللہ دہلوی نے احمد شاہ ابدالی کے ذریعے ملک کے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page