Al-Risala · May 1977 · page 41

مر گیا مردود فاتحه نه درود

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۴۱

سکھوں اور مرہٹوں پر حملے کرائے۔ شاہ اسمٰعیل شہید اور ان کے ساتھیوں نے ۱۸۳۱ء میں سکھ راجہ سے مقابلہ کرتے ہوئے جان دے دی۔ ان کوششوں سے سکھوں اور مرہٹوں کا زور تو کسی درجہ میں ٹوٹ گیا مگر اس کے بعد ۱۸۵۷ء کے انقلاب نے جو چیز برآمد کی، ہماری امیدوں کے برعکس، انگریز تھے نہ کہ دہلی کی مغل سلطنت۔ اس وقت انگریز زیادہ تیار اور زیادہ منظم تھا۔ اس لئے وہی نئے حالات کا ماسٹر بن سکتا تھا۔

اب انگریزوں کو ختم کرنے کے لئے سو سالہ جدوجہد شروع ہوئی جس میں لاکھوں لوگ قربان ہو گئے۔ مگر ۱۹۴۷ء میں جب تاریخ نے اپنا فیصلہ دیا تو معلوم ہوا کہ نئے انقلاب کے اندر سے نیشنل کانگریس کا راج برآمد ہو گیا ہے، نہ کہ ان لوگوں کا جن کو ہم نے بطور خود شیخ الہند، امام الہند اور مقنن اعظم کے خطابات دے رکھے تھے۔

اس کے بعد تیسرا دور آیا جب کہ نئے حکمرانوں کے تلخ تجربات نے "نان کا نگرس ازم" کی تحریک پیدا کی ہمارے بھائی دوسروں کے ساتھ، اس میں بھی پیش پیش تھے، ۱۹۶۹ء میں اس تحریک کو جزوی طور پر اور ۱۹۷۷ء میں کلی طور پر کامیابی حاصل ہوئی۔ مگر اس کے بعد جو چیز برآمد ہوئی وہ جنتا کی جمہوریت تھی نہ کہ لوگوں کی خوش گمانی کے مطابق "خیرامت" کے لئے اس کا کھویا ہوا مقام۔ اس قسم کی منفی سیاست اتنی بار دہرائی گئی ہے اور اتنی بار ناکام ہوئی ہے کہ اب اس کو سیاست کہنا ہی، کم از کم میرے جیسے آدمی کے لئے، مشکل معلوم ہوتا ہے۔ اور اگر اسی کا نام سیاست ہو تو تجھے نہیں معلوم کہ حماقت پھر کس چیز کا نام ہوگا۔ وحید الدین خاں مارچ ۱۹۷۷ء کے الیکشن کے بعد ملک کی سیاست میں جو انقلاب آیا ہے، اس طرح کے انقلابات کی دو بڑی وجہیں قرآن میں بتائی گئی ہیں۔ اب تک۔ انعام۔ دوسرے، امتحان۔

کبھی اللہ تعالی اپنے کچھ بندوں کے بارہ میں ارادہ فرماتا ہے کہ نہ صرف آخرت میں بلکہ دنیا میں بھی ان کو غلبہ عطا کیا جائے، اس وقت وہ غالب گروہ کو اقتدار کے مقام سے ہٹا دیتا ہے اور اس کی جگہ اپنے پسندیدہ گروہ کو بٹھا دیتا ہے جو ایک زمین میں کمزور سمجھے جا رہے تھے۔ ملک کے موجودہ حالات میں ایسی کوئی علامت نظر نہیں آتی کہ موجودہ انقلاب کو نصرت الہی کے اس قانون کے ذیل میں شمار کیا جائے۔

دوسری وجہ، اس طرح کے انقلابات کی امتحان ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی امتحان کی حالت میں ہے۔ قومیں اور جماعتیں بھی اپنے اپنے مقام پر اپنا امتحان دے رہی ہیں۔ فرد جب اپنا امتحان دے چکتا ہے تو موت کے فرشتے اس کو دارالعمل سے اٹھا کر دارالجزا میں پہنچا دیتے ہیں۔ اسی طرح کوئی قوم یا جماعت جب علم الہی کے مطابق اپنے امتحان کی مدت پوری کر لیتی ہے تو اس کو میدانِ عمل سے ہٹا دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ دوسرے فریق کو کام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ وہی سنت جو اس سے پہلے مغلوں اور انگریزوں کے حق میں ظاہر ہوئی تھی اب نہرو خاندان کے حق میں ظاہر ہوئی ہے۔ یہ امتحان کا معاملہ ہے نہ کہ انعام کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page