Al-Risala · May 1977 · page 42

مر گیا مردود فاتحه نه درود

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۴۲

ظفر الاسلام خان ام ایک عیسائی پادری کا قبولِ اسلام مصر کے ابراہیم خلیل فلپس اسلام لانے سے پہلے ایک اہم پادری شمار کئے جاتے تھے۔ انھوں نے مصری عیسائی اداروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۹۵۲ میں پرنسٹن یونیورسٹی (امریکہ) سے مسیحی علوم میں ایم۔ اے حاصل کیا۔ امریکہ سے واپسی پر وہ اسیوط کے کلیتہ الہوت میں پروفیسر ہوگئے۔ ان کا کام اسلام کے بارے میں اپنے طلبہ کو تیار کرنا تھا جو کہ کالج سے فارغ ہو کر پادری کی حیثیت سے مشرقی کنیسہ (مصر و حبشہ) کے لئے کام کرتے تھے۔ تدریس کے دوران ان کو یہ خیال ہوا کہ کیوں نہ مستشرقوں پر اعتماد کرنے کے بجائے وہ خود اسلام کا مطالعہ کریں تاکہ اس پر طعن و تشنیع بہتر طریقے سے کرسکیں۔ لیکن نتیجہ کیا ہوا؟ خود ان کے الفاظ میں: ’’نتیجہ الٹا نکلا۔ کیونکہ میرا ایمان متزلزل ہونے لگا اور مجھے یوں محسوس ہونے لگا گویا میرے دل و دماغ میں کش مکش پیدا ہوگئی ہے۔ مجھے پتہ چلا کہ جو کچھ میں نے پہلے پڑھا اور پڑھایا تھا وہ سب محض تحریف اور جھوٹ تھا۔ ‘‘ 1954میں ابراہیم خلیل کو جرمن سوئس مشن کا مصر میں سیکرٹری جنرل بنا کر اسوان بھیج دیا گیا جہاں ان کا اصل کام اُس علاقے کے مسلمانوں کو عیسائی بنانا تھا۔ اسوان ہی میں اگلے سال (۱۹۵۵) کی ایک شام کو ریڈیو سنتے ہوئے ابراہیم خلیل نے سورہ جن کی ابتدائی آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: کہو میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنات میں سے ایک گروہ نے قرآن کو سنا۔ پھر اپنی قوم سے جاکر کہا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے جو راہِ راست بتاتا ہے۔ سو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے۔ ان آیتوں نے ان کے دل و دماغ میں ایک آگ لگادی اور انھوں نے اسی وقت قرآن شریف پڑھنا شروع کیا اور اگلی صبح تک پڑھتے ہی رہے۔ یہاں تک کہ وہ اس آیت شریفہ تک پہنچے: اَلَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِیَّ الۡاُمِّیَّ الَّذِیۡ یَجِدُوۡنَهُ مَکۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِی التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ یَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یُحِلُّ لَہُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَیۡہِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَ الۡاَغۡلَالَ الَّتِیۡ کَانَتۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ فَالۡـذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَ عَزَّرُوۡهُ وَ نَصَرُوۡهُ وَ اتَّبَعُوۡا النُّورَ الَّذِیۡ اُنۡزِلَ مَعَهٗ ۙ اُولٰٓئِکَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ وہ لوگ جو رسول نبی اُمّی کی پیروی کرتے ہیں جن کو وہ اپنے پاس توریت وا نجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ ان کو نیک باتوں کا حکم دیتا ہے اور بری باتوں سے منع کرتا ہے اور وہ مصر کے ایک بڑے عیسائی پادری تھے۔ اسلام کا مطالعہ انھوں نے مستشرقین کی کتابوں کے ذریعہ کیا تھا۔ پھر ان کو خیال ہوا کہ اسلام کو براہ راست سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ جب انھوں نے اسلام کو قرآن و حدیث سے سمجھنے کی کوشش کی تو وہ اس کی باتوں سے اتنا متاثر ہوئے کہ اسلام قبول کر لیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page