Al-Risala · May 1977 · page 47

چین کا سفر | کے. کے. سود

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۴۷

کے کھاری پانی کو آب پاشی کے لئے استعمال کرنے کے طریقے دریافت کئے جا رہے ہیں ۔ مصنوعی بارش اور مصنوعی شبنم پیدا کرنے کے تجربے ہو رہے ہیں ۔ امریکہ کی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن نے اپنے سہ ماہی جریدل کا خصوصی نمبر اس کے بارے میں شائع کیا ہے جو اس موضوع پر اب تک کی تحقیقات و نتائج کا نہایت قیمتی مجموعہ ہے۔ قدرت نے زمین کو عجیب ڈھنگ سے بنایا ہے ۔

یہاں کہیں زرخیز مٹی ہے ، کہیں ریگستان ، کہیں پہاڑ ہے کہیں سمندر ، کہیں جنگل ہے کہیں بیابان ۔ ان میں سے ہر ایک کا ایک مصرف ہے۔ انسان کو عقل اسی لیے دی گئی ہے کہ وہ ان میں سے ہر ایک کے امکانات کو جانے اور ان کو انسانی مفاد کے لئے استعمال کرے ۔ مگر یہ بھی تاریخ کا عجیب المیہ ہے کہ انسان نے ہمیشہ اپنی عقل کو تعمیر سے سے زیادہ تخریب کے کاموں میں استعمال کیا ہے ۔ آخرت کا تصور نہ ہو تو انسانی زندگی جنگل کی زندگی بن جاتی ہے واشنگٹن میں دلیسن اسکول فار ٹیچرس کے نام سے معلمین کی تربیت کے لئے ایک ادارہ قائم ہے۔ اس ادارہ میں غیر ملکیوں کو انگلش سکھانے والے شعبہ کی ایک خاتون استاد، لاطینی امریکہ کے طلبہ کو امریکی معاشرہ کی روایات کے بارہ میں لیکچر دے رہی تھیں لیکچر کے خاتمہ پر، گوئٹے مالا کی ایک خاتون طالب علم نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ یہاں چودہ سال کی لڑکیاں اور پندرہ سال کے لڑکے مکمل جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں۔ اور یہ اس قسم کے تعلقات کے لئے بہت زیادہ قبل از وقت ہے“ امریکی خاتون استاد نے نہایت جوش سے جواب دیا: " زمین پر ہماری زندگیاں انتہائی مختصر ہیں یہاں اتنا موقع نہیں کہ ہم چودہ سال سے زیادہ اپنا وقت ضائع کریں “ (امریکہ التي رایت ، از سید قطب) یہ حقیقت ہے کہ اگر آخرت کے تصور کو نکال دیا جائے تو ہر قسم کی اخلاقی پابندیاں اور انسانی احتیاط بالکل بے معنی ہو جاتی ہیں۔ اگر زندگی یہی دنیا کی زندگی ہو اور اس کے بعد آدمی ہمیشہ کے لئے مٹ جانے والا ہو تو کیوں وہ دنیا لی لذتوں اور آسائشوں کے بارہ میں کسی قسم کی پابندی قبول کرے۔ اس کے برعکس اگر انسان کے ذہن میں یہ بات بٹھادی جائے کہ موت کے بعد بھی زندگی کا تسلسل جاری رہتا ہے۔ موت کے بعد لذت اور الم ہے تو موجودہ مختصر دنیا اس کے لئے بے حقیقت ہو جائے گی، اور وہ اگلی طویل زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ہر قسم کی اخلاقی بندشوں کو خوشی سے قبول کرلے گا۔ ونو ڈ ریڈی نے لکھا ہے: "کیا اس دنیا کے علاوہ کوئی اور دنیا ہے جہاں ہمارے عمل کے مطابق ہم کو بدلہ دیا جائے گا۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس سے ہمارا مفاد بہت زیادہ وابستہ ہے۔ موجودہ زندگی بہت مختصر ہے اور اس کی خوشیاں بے معمولی ہیں۔ جب ہم وہ کچھ حاصل کر لیتے ہیں جو ہم چاہتے ہیں تو موت کا وقت قریب آچکا ہوتا ہے، اگر یہ واضح ہوسکے کہ ایک خاص طریقہ پر زندگی گزارنے سے دائمی خوشی حاصل ہو سکتی ہے تو بیوقوف یا پاگل کے علاوہ کوئی بھی بھی شخص اس طرح زندگی گزارنے سے انکار نہیں کرے گا، مارٹائر ڈم آف مین، سم ۴۱۴

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page