چین کا سفر | کے. کے. سود
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۴۸
جس کی نحو کمزور تھی وہ تاریخ کا سب سے بڑا نحوی بن گیا وقتی مقبولیت یا نامقبولیت تاریخ کے فیصلے کو متاثر نہیں کرتی مشہور نحوی سیبویہ (م ۱۷۷ھ) ایران میں پیدا ہوا اور بصرہ میں پرورش پائی۔ اس کی نوجوانی کا واقعہ ہے جب کہ وہ حدیث و فقہ کا طالب علم تھا۔ ایک دن وہ حماد بن سلمہ کی مجلس میں تھا۔ وہ حدیث کی املا کرا رہے تھے۔ ایک حدیث آئی :
ليس من اصحابي احد الا لوشئت لاخذت عليه ليس ابا الدرداء سیبویہ یہ سن کر بول اٹھا : ليس ابو الدرداء۔ اس پر حماد نے چلا کر کہا: سیبویہ تم غلطی پر ہو۔ یہ استثناء ہے (اس لئے ابو کے بجائے ابا ہے)۔ سیبویہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے اپنے جی میں کہا کہ میری نحو کمزور ہے اور مجھے اس میں مہارت پیدا کرنی چاہئے ۔ اب اس نے نحو سیکھنا شروع کر دیا۔ وہ بصرہ و کوفہ کے نحوی علماءء خلیل، یونس اور عیسیٰ بن عمر کی مجلسوں میں جانے لگا۔ اس نے اس فن میں اتنی محنت کی کہ بالآخر وہ اس کا امام بن گیا۔ نحو و ادب کے شاذ مسائل میں اس کا کوئی ثانی نہ رہا۔ اس کے بعد اس نے نحو پر ایک ایسی کتاب لکھی جو اپنی اہمیت اور بلندی کی وجہ سے " الکتاب" کے نام سے مشہور ہے۔ اس فن کے علما کا کہنا ہے کہ فن نحو پر اس کے برابر کی کوئی کتاب آج تک لکھی نہ جا سکی ۔ کسائی کے متعلق بھی اسی قسم کا ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے ۔
آخری دور میں سیبویہ بغداد چلا گیا۔ یہاں مشہور نحوی عالم کسائی (م ۱۸۹ھ) تھا۔ وہ ہارون رشید کے لڑکے امین کا اتالیق تھا۔ ایک بار یحییٰ بن خالد برمکی وزیر کے زیر اہتمام دونوں کے درمیان مناظرہ ہوا۔ اس مجلس میں کسائی نے سیبویہ کے سامنے عربی کا یہ جملہ دہرایا : كنت اظن ان العقرب اشد لسعة من الزنبور فاذا هو اياها کسائی نے پوچھا : اس جملہ میں فصیح زبان کا طریقہ کیا ہے ۔ سیبویہ نے جواب دیا کہ جملہ کے آخر میں "ایاھا" کی منصوب ضمیر لانا جائز نہیں ہے۔ صحیح جملہ یوں ہوگا : فاذا هو هھی ۔ کسائی نے کہا ، نہیں۔ عرب اس کو دونوں طریقے سے بولتے ہیں۔ بحث بڑھی تو دونوں نے مسئلہ کا فیصلہ کرانے کے لئے ایک فصیح اللہجہ دیہاتی عرب کو حکم بنایا۔ اس سے جب پوچھا گیا تو اس نے سیبویہ کو صحیح بتایا ۔ مگر کسائی شہزادہ امین کا اتالیق تھا۔ مزید یہ کہ وہ کوفی تھا اور سیبویہ ایرانی۔ اور جیسا کہ معلوم ہے ، خلفار عباسیہ کوفہ والوں کی طرف داری کرتے تھے۔ امین نے اپنے کوفی استاد کی حمایت میں تعصب سے کام لیا۔ یہ صورت حال دیکھ کر دیہاتی بھی ڈر گیا اور اس نے بعد کو کسائی کی موافقت کردی۔ اب معاملہ سنگین ہوگیا حتی کہ سیبویہ کو اندیشہ ہوا کہ اس کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ وہ بغداد کو چھوڑ کر ایران بھاگ گیا۔ وہاں شیراز کے قریب ایک گاؤں " بیضا ء " میں اپنی زندگی کے بقیہ دن گزار دیئے۔ یہاں چالیس سال سے کچھ زیادہ کی عمر پا کر اس کا انتقال ہوگیا ۔