نصف صدی بعد بھی
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۴۹
نصف صدی بعد بھی
استدلال کے ساتھ اسلامی کتابیں تیار کرنے کی ضررت کا ہر طرف سے تقاضہ ہورہا ہے۔ مگر ہمارے رہنما جذباتی تقریروں مدعو اہتمام ہونے ایسوی ایشن (مارچ ۱۹۲۵) میں نواب صدر یار جنگ بہرادر مولانا حبیب الرحمٰن خاں شروانی نے خطبہ صدارت پڑھا تھا۔ پچاس برس پہلے ہمارے دینی مدارس کا جو حال تھا ، اس کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا:
"ہمارے مدارس کی بے سرو سامانی اس سے ظاہر ہے کہ حال میں جو فتنہ ارتداد پھیلا تو ہر طرف سے یہ صدائیں بلند ہیں کہ تعلیم و تبلیغ کے واسطے جماعتیں قائم کی جائیں۔ یعنی قدیم تعلیم اور جماعتیں اس ضرورت کے لئے بھی ناکافی ہیں۔ اور واقعہ بھی یہی ہے۔ تقریر اور تحریر دونوں کی وہ قوت نہیں جو سننے اور پڑھنے والوں کے دل و دماغ پر سکہ بٹھادے۔ معلومات، کتابوں کے ضمائر اور اشارات تک، شروح و حواشی قدیمہ کی عبارات تک محدود۔ کام چلے تو کیونکر۔ شدید ضرورت داعی ہوئی جدید جماعتوں کے قیام کی۔ " ان سطروں کو لکھے ہوئے پچاس برس گزر گئے مگر ہمارے اداروں کا یہ خلا بدستور باقی ہے۔
غیرمسلموں میں اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے آج پہلے سے بھی زیادہ بڑی تعداد میں مبلغین کی ضرورت ہے۔ یورپ میں مذہب کو از سر نو جاننے کا زبردست رجحان پیدا ہوگیا ہے اور دوسرے مذاہب کے لوگ تیزی سے ان کے درمیان گھس رہے ہیں۔ مگر ہمارے مدارس کے پاس ایسے لوگ نہیں جو اہل یورپ کو اسلام کا پیغام دے سکیں۔ افریقہ کی مقامی زبانوں میں اسلامی لٹریچر کی بے حد مانگ ہے، مگر ہمارے یہاں ایسے لوگ مفقود ہیں جو ان زبانوں میں اسلامی کتابوں کا عمدہ ترجمہ کر سکیں۔ جدید اسلوب اور جدید کے سوا اور کوئی چیز آج کے انسان کو نہیں دے سکتے۔ ہندوستان میں خود غیر مسلم جماعتیں اپنے اہتمام سے ایسے اجتماعات کرتی ہیں جن میں مختلف مذاہب کے لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ وہاں آکر اپنے مذہب کا تعارف کرائیں مگر اس ذمہ داری کو ادا کرنے والے آدمی بھی ہمارے پاس نہیں۔ پہلی جنگِ عظیم (۱۹۱۴-۱۹۱۸) کے زمانہ میں جب عرب دنیا ترکی کی عثمانی خلافت کے "جوئے سے رہائی کو اپنے لئے عظیم نجات تصور کئے ہوئے تھی، ان کے درمیان ایسے لوگ بھی تھے جو اس کے دور رس عواقب کو سمجھتے تھے اور اپنے عرب بھائیوں کو اس سے آگاہ کر رہے تھے۔ مثال کے طور پر امیر شکیب ارسلان نے اسلامی اتحاد کی اہمیت کو محسوس کیا اور عربوں کو ترکوں کے خلاف بغاو ت سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ اگرچہ اس کے صلے میں انھیں یہ تحفہ ملا کہ ان کو خوشامدی اور غدار کہا گیا ۔ اس کا جواب انھوں نے اپنے ایک شعر میں اس طرح دیا تھا :
سيعلم قـومی انـنی لا اغـشـهم
و مهما استطال اللیل فالصبح واصل (جلد ہی میری قوم جان لے گی کہ میں اس کو دھوکہ نہیں دے رہا ہوں ۔ رات خواہ کتنی ہی طویل ہو جائے، صبح بہ حال آنے والی ہے)۔