آپ بیتی
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۵۰
آپ بیتی
میں جس زمانہ (از ستمبر ۱۹۶۲ تا جون ۱۹۶۳) میں مکگل یونیورسٹی (کناڈا) کے اسلامک ریسرچ اینڈ ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ سے بحیثیت معلم کے وابستہ تھا اس زمانہ میں ایک واقعہ پیش آیا کہ مئی ۱۹۶۳ کے پہلے ہفتہ میں انسٹی ٹیوٹ کی گورننگ باڈی کی ایک میٹنگ ہوئی جس میں میں بھی شریک تھا اور پروفیسر ولفرینڈ کینٹول سمتھ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر کی حیثیت سے اس میں صدر نشین تھے۔ ایجنڈے پر بہت سے تعلیمی مسائل کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ انسٹی ٹیوٹ کے ایک طالب علم مسٹر مشیر الحق (حالیہ پروفیسر اسلامیات جامعہ ملیہ) ایم۔ اے کا امتحان دے چکے تھے اور اب وہ پی۔ ایچ۔ ڈی میں داخلہ چاہتے تھے۔ میٹنگ میں جب یہ مسئلہ زیر غور آیا تو پروفیسر سمتھ نے کہا کہ مشیر ایم۔ اے کے امتحان میں اچھے نمبروں سے کامیاب ہو جائیں گے اور اس بنا پر پی۔ ایچ۔ ڈی میں داخلہ اور ان کے اسکالرشپ کے مستحق ہوں گے ہی لیکن اس سلسلہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہمیں اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ مشیر شادی شدہ ہیں اور ان کے بچے بھی ہیں اور مشیر کو ان سے جدا ہوئے دو برس ہو چکے ہیں۔ اب اگر یہ پی۔ ایچ۔ ڈی میں داخلہ لیتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اب مزید تین برس اور یہ اپنی بیوی بچوں سے جدا رہیں گے اور یہ ایک جوان میاں بیوی کے لئے نامناسب بات ہے، اس بنا پر میں دو تجویزیں پیش کرتا ہوں۔ ایک یہ کہ مشیر کے لئے ہندوستان آنے جانے کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ موسم گرما کی تعطیل کے تین مہینے اپنے بچوں میں گزار لیں اور دوسری تجویز یہ ہے کہ ان کی بیوی اور بچوں کو یہاں بلوا دیا جائے اور ان کے اسکالرشپ کی رقم میں اتنا اضافہ کر دیا جائے کہ سب مل کر آسانی سے گزارہ کر لیں۔ کچھ دیر بحث و گفتگُو کے بعد اسمہ صا حب کی دونوں تجویزوں کو علی سبیل التبادل نہیں بلکہ علی سبیل الاجتماع منظور کر لیا گیا۔ چناں چہ مشیر صاحب ہندوستان آئے۔ تین مہینے کے قریب یہاں رہے، اور پھر اپنی بیوی بچوں کو لے کر کناڈا واپس لوٹ گئے۔
(مولانا) سعید احمد اکبر آبادی (پیدائش ۱۹۰۸) ہمدرد ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، تغلق آباد، نئی دہلی آدمی اسی چیز کو کھورہا ہے جس کو وہ سب سے زیادہ پانا چاہتا ہے لوگوں کی دوڑ دھوپ آج کس چیز کے لئے ہے۔
کھانا، کپڑا، مکان، عزت، خوش حالی اور پرمسرت زندگی۔ ہرشخص اپنی ساری زندگی کو انھیں چیزوں کے حصول اور ترقی میں لگائے ہوئے ہے۔
مگر موت کا واقعہ بتاتا ہے کہ آدمی موجودہ دنیا میں اپنے اس مطلوب کو انتہائی عارضی مدت کے لئے حاصل کرتا ہے۔ ان چیزوں کو پانے کی اصل جگہ وہ دنیا ہے جہاں آدمی کو ہمیشہ رہنا ہے۔ لوگ اپنی ساری طاقت دنیوی مستقبل کی تعمیر میں لگائے ہوئے ہیں، اُخروی مستقبل کی تعمیر کی کسی کو فکر نہیں۔ زندگی کے اگلے طویل تر مرحلہ میں وہ اسی چیز کو کھورہے ہیں جس کو وہ موجودہ عارضی دنیا میں سب سے زیادہ پانا چاہتے ہیں۔ کیسی عجیب ہے یہ محرومی۔ مگر کوئی نہیں جو اس پر سوچنے کے لئے تیار ہو۔