متفرقّات
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۵۱
متفرقّات
سعودی عرب کے نائب وزیر اعظم شہزادہ فہد، ۲۳ اکتوبر ۷۵ء کو لندن پہنچے تو ان کا استقبال "اس روایتی شان کے ساتھ کیا گیا جو الف لیلہ کے دور میں کسی اسلامی خلیفہ کا ہو سکتا تھا؛ اخبار «ہندستان ٹائمس ۲۴ اکتوبر ۱۹۷۵) کے الفاظ میں ’’زمین کے اس سب سے اہم آدمی‘‘ نے ایک اقتصادی معاہدہ پر دستخط کئے جس کے مطابق برطانیہ کو ۷۰ ملین ڈالر کے پانچ سالہ منصوبہ میں سعودی عرب کی غیر معمولی امداد حاصل ہوگی۔ اخبار نے اس خبر کی سرخی قائم کی :
BRITAIN BOWS BEFORE OIL CALIPH
مشرق وسطیٰ کے تیل نے دنیا کی سیاست کا نقشہ جس طرح بدلا ہے، اس میں ایک سبق یہ بھی ہے کہ اس نے اس مفروضہ کو بے بنیاد ثابت کر دیا کہ "اسلام کا زمانہ ختم ہو چکا۔ " اسلام کی مغلوبیت حقیقتہً کسی نظریاتی کمزوری کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئی تھی بلکہ صرف اس عملی واقعہ کا نتیجہ تھی کہ مغربی قومیں اقتصادی قوتوں پر چھا گئیں اور مسلم قومیں اس دوڑ میں پیچھے رہ گئیں۔ اب جیسے ہی شرقِ اوسط کے زیر ترقی ممالک کے لئے قرضوں کی ادائیگی کا مسئلہ، اس موقع پر ممبران کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ ترقی یافتہ ممالک زیر ترقی ممالک کو بلا سود (انٹرسٹ فری) قرضے دیں۔ تاکہ یہ قرضے مقروض ملکوں کے لئے زیادہ با معنی بن سکیں۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ شکل میں یہ قرضے عملاً بے معنی ثابت ہو رہے ہیں، کیونکہ سود کے ساتھ قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے زیر ترقی ممالک کے وسائل دوبارہ ترقی یافتہ ملکوں کی طرف چلے جا رہے ہیں۔ جب کہ معاملہ اس کے برعکس ہونا چاہئے تھا۔ ہندستان کے پارلیمینٹری نمائندہ وی۔ پی۔ راجو نے بتایا کہ ہندوستان کے اوپر جو بیرونی قرضے ہیں، ان کی مقدار موجودہ مالی سال کے خاتمہ تک سات ہزار کروڑ ہو جائے گی۔ یہ قرضے بالا قساط ادا کئے جاتے ہیں۔ مگر جہاں تک سود کا تعلق ہے، وہ پوری رقم پر ہر سال دینا ہوتا ہے۔ اور یہ ادائیگی بھی ظاہر ہے کہ بیرونی سکہ میں ہوتی ہے۔ چنانچہ ہندوستان کی برآمدی کمائی کا ۲۵ فی صد بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔ مسٹر راجو نے کہا کہ بیرونی تجارت کا توازن اس وقت ایک ہزار کروڑ روپیہ کے بقدر ہندوستان کے خلاف ہے۔ ایسی حالت میں وہ کس طرح اپنے اقتصادی وجود کو برقرار ٹرول نے مسلم قوموں کی اقتصادی پس ماندگی کی تلافی کی، صورتِ حال بدلنے لگی ۔ اور "اسلام" کا لفظ ماضی کے بجائے حال کا نشان بن گیا۔
سودی اقتصادیات کے خلاف
یکسر یکسر ملی ، ملت، پارلمنٹ، اکائونٹ نے پاکستان کے اقتصادی رکھ سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ سودی قرضوں کو، کم از کم غذا، ایندھن (اور کھاد) میں بالکل ختم کر دیا جائے ۔ (ہندوستان ٹائمز یکم نومبر ۱۹۷۰ء)
اندھا پن
انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے ایک سروے ایسیوس ایشن کا یہ چوتھا سالانہ اجلاس ۳۱ اکتوبر کے آخری ہفتہ میں نئی دہلی میں ہوئی تھی ۔ اس سلسلے میں ۳۱ اکتوبر کو ایک سمینار ہوا جس کا عنوان تھا : PROBLEM OF DEBT REPAYMENT FOR DEVELOPING COUNTRIES سے مطابق ہندوستان کی ۷۰۰ پین آبادی میں احمد دین سے زیادہ لوگ اندھے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اندھے پن کی شرح‘ مسلمانوں کے مقابلہ میں ہندوؤں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ (ہندوستان ٹائمز ۲۵ نومبر ۱۹۷۵ء)