Al-Risala · May 1977 · page 52

اندھا پن

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۵۲

حکیم عبدالکریم ، کریمی دواخا بنگواں ، ضلع گوڑ گاؤں حفظانِ صحت " معدہ بیماریوں کا گھر ہے " اور " پرہیز کل دواؤں کا سر ہے "۔ یہ مقولے آج بھی اتنے ہی صحیح ہیں جتنے کبھی پہلے تھے ۔ صحت وتندرستی کے لیے ابتدائی شرط یہ ہے کہ آدمی کھانا اسی قدر کھائے جتنا اس کا معدہ آسانی سے ہضم کر سکتا ہو۔ سادہ غذا جو غلیظ نہ ہو ، اسکے عادی کو بیماری کم پیدا ہوگی اور عمر بھی دراز ہوگی ۔ لطیف غذا اور شربت اگر چہ زود ہضم ہوتے ہیں ۔ مگر معدہ کو ضعیف کرتے ہیں۔ لطیف کھانوں سے اگرچہ اچھی خلطیں حاصل ہوتی لیکن وہ جلد اثر قبول کرنیوالی ہوتی ہیں ، اسلئے جب مرض کا حملہ ہوتا ہے تو طبیعت اس کے دفاع میں عموماً ناکام رہتی ہے۔

جو لوگ قدرت سے قریب تر کثیف غذائیں استعمال کرنے کے عادی ہوتے ہیں، وہ اکثر زیادہ تندرست دیکھے گئے ہیں، ایسے لوگ اکثر عمر بھی لمبی پاتے ہیں، انکے اعضاء مضبوط ہوتے ہیں، جیسا کہ دیہات کے لوگوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ شہری لوگ جو لطیف غذاؤں کے عادی اور شربت نوش ہوتے ہیں، اکثر ضعیف الاعضاء اور کم عمر پائے گئے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ کثیف قدرتی غذا دیر ہضم ہوتی ہے اور بدہضمی پیدا کرتی ہے۔ مگر یہ بات غیر معتاد کیلئے ہے جب عادت ہوجا تو کثیف غذا زود ہضم ہو جاتی ہے اور خلطیں اچھی پیدا کرتی ہے۔ اور صحت قائم رکھنے میں عادت کا بہت بڑا دخل ہوتا ہے۔ آنکھ : ایک قدرتی تحفہ آنکھ ہمارے دماغ کی کھڑکی ہے۔ باہر کی دنیا سے جو معلومات ہم حاصل کرتے ہیں، ان میں سے ۸۰ فیصد ہم کو آنکھ کی معرفت پہنچتی ہیں۔

انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے حالیہ اندازے کے مطابق ہندوستان میں اندھوں کی تعداد ۹۰ لاکھ ہے اس سے کئی گنا زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جن کی آنکھ کمزور ہے یا صحیح طور پر کام نہیں کرتی۔ ہندوستانی شہریوں کو ان اندھوں کی پرورش و پرداخت پر جو خرچ کرنا پڑتا ہے اس کا اندازہ ۱۲ ہزار کروڑ سالانہ کیا گیا ہے اندھوں کی بڑی تعداد صحیح علاج سے درست ہوسکتی تھی، مگر غیر تربیت یافتہ معالجین کے غلط علاج اور سرمے اور کاجل نے انھیں مستقل طور پر اندھا بنا دیا۔ آنکھ کی کمزوری کا ایک بڑا سبب ناقص خوراک ہے عالمی ادارہ صحت کے ایک جائزے کے مطابق 15 ہزار بچے ہر سال اپنی آنکھ کی روشنی سے اسلیے محروم ہو جاتے ہیں کہ انکو وٹامن اے نہیں ملتا۔ اسی طرح خوراک میں پروٹین اور وٹامن بی کا مپلکس کی کمی بھی اندھا پن پیدا کرتی ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ہندوستان میں غلط پکوان کی وجہ سے ہر سال ایک ہزار کروڑ روپے کے وٹامن ضائع ہو جاتے ہیں۔

تاہم ہندوستان میں اندھے پن کا واحد بڑا سبب آنکھ میں سفید پانی آ جانا ہے، چھ ملین افراد اس قسم کی صورتحال میں مبتلا پائے گئے ہیں۔ سفید پانی (موتیا بند) کا کامیاب علاج صرف آپریشن ہے۔ غمیہ ترقی یافتہ ملکوں میں زیادہ تر بچپن میں آنکھ ضائع ہو جاتی ہے جبکہ ترقی یافتہ ملکوں میں بڑی عمر میں اسکی نوبت آتی ہے۔ بچے کی آنکھ میں کوئی نقص یا کوئی غیر معمولی بات نظر آئے تو فوراً کسی اچھے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page