Al-Risala · May 1977 · page 54

دانش مندی کے امتحان میں

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۵۴

دانش مندی کے امتحان میں

ہاری ہوئی بازی کو نہ پر جوش تقریروں کے ذریعہ جیتا جا سکتا ہے اور نہ خوشامدی سیاست سے۔

ہندوستان کی چھٹی لوک سبھا کے لئے الیکشن کے انعقاد کا اعلان ۱۸ جنوری ۱۶۷۷ء کو ہوا ہے اور سابق صدر جمہوریہ فخر الدین علی احمد کا انتقال ۱۱ فروری کو۔ جب الیکشن کا اعلان ہوا تو راقم الحروف نے اپنے کچھ ساتھیوں سے کہا تھا ـــــ "فخر الدین علی احمد اگر اس وقت صدارت سے استفادہ دے دیں اور اندرا گاندھی کے مقابلہ میں سیاست کے میدان میں آ جائیں تو وہ سارے ملک کے سیاسی ہیرو بن جائیں گے" یہ ایک حقیقت ہے کہ ۱۸ جنوری اور ۱۹ مارچ کے درمیان دو ماہ کا وقت ہندوستان کی سیاست میں ایک تاریخ ساز لمحہ تھا۔ مگر نہ فخر الدین علی احمد اس راز کو سمجھ سکے اور نہ دوسرا کوئی مسلم لیڈر۔ ذاتی طور پر مجھے سیاست سے کوئی دل چسپی نہیں۔ مگر مجھے حیرت ہے کہ جو لوگ سیاست ہی کو اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہیں، وہ سیاست سے اتنے بے خبر کیوں رہتے ہیں کہ ایک دن پہلے تک بھی انھیں حالات کی اطلاع نہیں ہوتی۔ آزادی کے بعد بننے والے ہندوستان میں جن مسلمانوں کو موقع ملا کہ وہ کانگریسی حکومتوں میں صدر، گورنر، وزیر اور سفیر بنیں وہ در اصل ان کے اس سیاسی کردار کی قیمت تھی جو ۱۹۴۷ سے پہلے آزادی کی تحریک میں انھوں نے برادران وطن کے ساتھ مل کر ادا کیا تھا۔ بعد کو جو لوگ کانگریس پارٹی میں شامل ہوئے، وہ قدرتی طور پر یہ درجہ حاصل نہ کر سکے۔

انگریزوں کے خلاف لڑائی میں لوگوں کا سیاسی کردار پچاس سال میں بنا تھا۔ کانگریسی راج کے مقابلہ میں جدوجہد کا یہ لمحہ، مخصوص اسباب سے، کم ہو کر دو مہینے میں سمٹ آیا تھا۔ مگر مسلم قیادت، تقریباً سب کی سب کانگریس سے لپٹی رہی۔ وہ اس تاریخ ساز عمل میں شریک ہونے کی دانش مندی نہ دکھا سکی۔ نہرو خاندان کی حکومت کے تحت ان کو جو مفادات ملے ہوئے تھے، ان کو ان آخری لمحات میں بھی خطرہ میں ڈالنا انہیں گوارا نہیں ہوا جب کہ زمانہ اس حکومت کے خاتمہ کا آخری فیصلہ کر چکا تھا۔ اب بہت سے لوگ اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مگر اب اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ ۱۲ مارچ ۱۹۷۷ء سے پہلے سیاسی پلیٹ فارم بدلنے سے آدمی کا سیاسی کردار بنتا تھا، جب کہ آج اس قسم کی تبدیلی صرف سیاسی ابن الوقتی ہے جس کی کوئی قیمت کسی کے نزدیک نہیں۔

مسلم قیادت کی یہ غلطی ایک عظیم سیاسی نقصان کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ اس الیکشن میں مسلمانوں نے عام طور پر جنتا پارٹی کو ووٹ دیا۔ نئے گروہ کی کامیابی میں بلاشبہ مسلم ووٹروں کا بھی ایک حصہ ہے۔ مگر نئی بننے والی حکومت میں اسی نسبت سے ان کو مقام نہ مل سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی سیاسی نظام میں ایک گروہ کا مقام محض ووٹروں سے نہیں بلکہ لیڈروں سے بنتا ہے۔ جو قوم صرف ووٹ دینے کے لئے جوش و خروش دکھانا جانتی ہو، اس کی ساری دھوم بس پولنگ کے دن نظر آئے گی۔ اس کے بعد حکومت کے نظام میں اس کا کوئی

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page