Al-Risala · May 1977 · page 56

Shree Rajneesh Ashram,

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۵۶

Shree Rajneesh Ashram,

17, Koregaon Park, Poona 411 001. آچاریہ رج نیش ۱۹۳۱ میں پیدا ہوئے۔

۱۹۵۷ میں ساگر یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم اے کیا۔ ۹ سال تک کالج میں استاد رہے۔ ۱۹۶۶ میں ملازمت چھوڑ کر مذہبی کام کرنا شروع کیا۔

آچاریہ جی نمائشى مذہبیت سے بیزار ہیں اور گہرائی میں اتر کر حقیقت کو پانے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: " باہر کی یاترا کم کرو، اس سے انتریا ترا میں بادھا پڑتی ہے " ان کو اتنی مقبولیت حاصل ہوئی ہے کہ ان کا بولا ہوا ایک ایک لفظ شائع ہوتا ہے ۔ ان کی تمام تقریروں کے ٹیپ تیار ہوتے ہیں اور وہ ملک کے مختلف حصوں میں قائم شدہ مراکز میں لفظ بلفظ سنائے جاتے ہیں ۔

ایک بار انھوں نے اپنی تقریر میں کہا : " ابھی بھی جو میرے قریب آگئے ہیں ، جو میں بولتا ہوں اس سے ان کا بہت پریوجن (غرض) نہیں ہے ، میرے دو شبدوں کے بیچ جو خالی جگہ ہے، اس سے ہی قرآن ایک انوکھی کتاب ہے محمد کا تیاگ سب سے بڑھا ہوا ہے نماز خدا سے شکتی لینے کا نام ہے ان کا زیادہ پر یوجن (غرض) ہے۔ اب وہ لکیروں کے بیچ پڑھنے لگےے ہیں اور شبدوں کے بیچ سننے لگ ہیں اور شبدتو صرف بہانا ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ بیشتر لوگ بس ویسے ہی بن جاتے ہیں جیسا ماحول ان کو بنا دے۔ حالاں کہ آدمی کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ خود شعوری کا مقام حاصل کرے اور آپ اپنی تعمیر کرے۔ انھوں نے ایک بار کہا: بچے تو سبھی پیدا کرتے ہیں۔ سب سے کٹھن کام اپنے آپ کو جنم دینا ہے۔

یہاں آچاریہ رج نیش کے چند اقوال نقل کئے جاتے ہیں جو قرآن، نماز اور پیغمبر اسلام کے بارے میں انھوں نے کہے ہیں :

پیغمبر اسلام

مہاتما بدھ نے راج پاٹ چھوڑا، مہاویر نے محل تیاگا۔ اس میں شبہ نہیں کہ یہ ان دونوں کا بڑا تیاگ تھا۔ لیکن محمد کا تیاگ سب سے بڑھا ہوا ہے۔ انھوں نے ایسا

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page