جولائی 1977 ، صفحہ 7
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۷، صفحہ ۱۱
نے عوامی ووٹوں کی بنیاد پر حکمرانی کا حق حاصل کیا ہے نہ کہ کسی فوق الفطری عقیدہ کی بنیاد پر یہی وجہ ہے کہ توحیدی دعوت میں ان کو اپنے سنگھاسن کے لئے کوئی راست نظریاتی خطرہ نظر نہیں آتا ، جبکہ نمرود کو اس قسم کے کسی عقیدہ کے پھیلنے میں اپنی سیاسی جڑ کٹتی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔
قدیم زمانہ میں جب کوئی نبی اٹھتا تو اکثر ایسا ہوتا کہ پہلے ہی مرحلہ میں اقتدار وقت سے اس کا ٹکراؤ شروع ہو جاتا اور غیر ضروری قسم کی مشکلات اس کی راہ میں حائل ہو جاتیں۔ اس کی وجہ سیاسی اداروں کے ساتھ فوق الطبیعی عقائد کی یہی وابستگی تھی۔ قدیم زمانہ کے بادشاہ عوام کو یہ یقین دلا کر ان کے اوپر حکومت کرتے تھے کہ وہ دیوتاؤں کی اولاد ہیں، خدا ان کے اندر حلول کر آیا ہے۔ ایسے ماحول میں جب توحید خالص کی آواز بلند ہوتی تو ان کو نظر آتا کہ وہ ان کے سیاسی استحقاق کو بے اعتبار بنا رہی ہے۔ یہ اعتقادی پیچیدگی ان کو داعی حق سے متصادم کر دیتی تھی ۔ اسلام نے ثابت کیا کہ ہر قسم کا فوق الفطری اقتدار صرف خدا کے لئے ہے اور یہ اعلان کیا کہ تمام انسان برابر ہیں ایک کو دوسرے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ اس طرح اسلام نے سیاسی ادارہ کو اعتقادیات سے جدا کر دیا۔ اب سیاسی حکمرانی صرف سیاسی حکمرانی تھی، وہ مسئلہ توحید سے کوئی براہ راست تعلق نہ رکھتی تھی۔ اسلام کی اس فکر کی بنیاد پر عرب میں جو انقلاب آیا، وہ ایشیا اور افریقہ ہوتا ہوا بالآخر یورپ پہنچا۔ اٹھارویں صدی میں فرانس اور امریکہ کے جمہوری انقلابات اسی کی بازگشت تھے۔ اس کے بعد تبدیلی کا یہ عمل آخری طور پر مکمل ہو گیا۔ اب وہ وقت اپنی کامل صورت میں آگیا کہ ایک داعی توحید کی دعوت لے کر اٹھے اور سیاسی اعتقادیا کی پیچیدگی میں الجھے بغیر بندگان خدا کو حق سے آگاہ کرتا رہے۔
اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص عوام میں یہ بات مشہور کر کے اپنا طبی کاروبار چلا رہا ہو کہ وہ ایک جن ڈاکٹر کا شاگرد ہے جو روزانہ رات کو آ کر اس کو فن طب کے رموز بتا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی شخص یہ آواز بلند کرے کہ علم طب میڈیکل کالج میں سیکھا جاتا ہے نہ کہ جناتوں کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے تو مذکورہ طبیب ایسی تحریک کا سخت مخالف ہو جائے گا۔ جب کہ اسی بستی میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر کو اس تحریک سے کوئی عداوت نہ ہوگی ۔ ۲۔ اظہار رائے کی آزادی دنیوی عظمتوں کو فوق الطبیعی سمجھنے ہی کا یہ نتیجہ بھی تھا کہ قدیم زمانہ میں عام افراد کو رائے کی آزادی حاصل نہ تھی۔ ایک شخص کی زبان قانون ہوتی تھی۔ اسلام نے جب غیر اللہ کے لئے فوق الطبیعی عظمتوں کے تصور کو منہدم کیا تو ساری دنیا میں ایک نیا عمل شروع ہو گیا۔ اگرچہ انتہائی خلاف زمانہ تصور ہونے کی وجہ سے اس عمل کی تکمیل میں ایک ہزار برس لگ گئے ۔ تاہم وہ چیز جو قدیم زمانہ میں ایک مسلمہ حقیقت سمجھی جاتی تھی آج وہ اتنی بے دلیل ہو چکی ہے کہ ساری دنیا میں کوئی اس کی وکالت کرنے والا نہیں۔
جاپان کی تاریخ اس سلسلے میں بڑی سبق آموز مثال پیش کرتی ہے۔
سولھویں صدی کے نصف آخر میں عیسائی مذہب پرتگیز یوں کے ذریعہ جاپان میں داخل ہوا اور ملک
‹ Previous page Next page › Contents of July 1977 All issues