۳۔ مظاہر فطرت کو تسخیر و تدبر کا موضوع بنانا
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۷، صفحہ ۱۲
میں پھیلنے لگا۔ یہ بادشاہت کا زمانہ تھا۔ ۱۶۱۲ء میں ایک شاہی فرمان جاری ہوا جس کے مطابق عیسائیت اور اس کی تبلیغ کو جاپان میں خلاف قانون قرار دے دیا گیا۔ دو سو برس تک اس فرمان پر انتہائی بے رحمی کے ساتھ عمل ہوتا رہا، یہاں تک کہ عیسائیت کو جاپان سے بالکل ختم کر دیا گیا۔
مگر اسی مدت میں ایک اور عمل جاری تھا۔ اسلام نے تاریخ انسانی کو جو دھکا دیا تھا، وہ یورپ میں داخل ہو کر اٹھارویں صدی میں اپنی آخری سیاسی انتہا کو پہنچ گیا۔ فرد کی آزادی اور اظہار رائے مسلّمہ انسانی حق قرار پائے۔ یہ افکار جو اولاً فرانس میں مرتب ہوئے انھوں نے ساری دنیا پر اپنے اثرات ڈالنے شروع کئے۔ یہاں تک کہ جاپان کو ۱۸۷۳ء میں خلاف مسیحیت قانون کو منسوخ کرنا پڑا اور ہر ایک کے لیے اظہار رائے کی مکمل آزادی تسلیم کر لی گئی۔ اس زمانی تبدیلی نے دین کی دعوت و تبلیغ کے تمام راستے کھول دیئے ہیں۔ اب ساری دنیا میں دین خداوندی کا اعلان کیا جا سکتا ہے اور کہیں بھی داعی کی زبان و قلم پر کوئی پابندی لگانے والا نہیں ہوگا۔ تاہم اس امکان کے دروازے اب بھی کھلے ہوئے ہیں کہ ہم خود اپنی نادانی کی وجہ سے دوبارہ کسی نئے عنوان سے دریسائل اسلام کی راہ میں کھڑے کر دیں جن کو خدا نے اسلام کی راہ سے ہٹا دیا تھا۔ کوئی بھی انتظام، خواہ کتنا ہی اعلیٰ پیمانہ کا ہو، کسی کے لئے اس قسم کی نادانی کے امکان کو بند نہیں کرتا۔
۳۔ مظاہر فطرت کو تسخیر و تدبر کا موضوع بنانا
کائناتیا مظاہر پچھلے تمام معلوم زمانوں سے پرستش کا موضوع بنے ہوئے تھے۔ اسلام نے پہلی بار ان کو تسخیر و تدبر کا موضوع بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ جب تک آدمی ان کو خدا سمجھتا تھا وہ ان کے آگے جھکتا رہا۔ جب اس نے جانا کہ یہ سب مجبور اور مخلوق ہیں تو اس نے ان کو سمجھنے کے لئے تحقیق شروع کر دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علوم فطرت آدمی کے سامنے کھلنے لگے۔ خدا نے اپنی تخلیقات میں جو تصدیقی نشانیاں رکھ دی تھیں وہ ایک ایک کر کے ظاہر ہونا شروع ہو گئیں۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی میں پہنچ کر اب وہ وقت آ گیا ہے جس کی پیشگی اطلاع قرآن میں ان لفظوں میں دی گئی تھی : ہم ان کو آفاق و انفس میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ یہ حق ہے“۔ یہ پیشین گوئی اتنے بڑے پیمانہ پر واقعہ بن چکی ہے کہ جو باتیں ماضی کے انسان کے لئے ایمان بالغیب کی حیثیت رکھتی تھیں، آج وہ اس کے لئے ایمان بالشہود کے درجہ پر پہنچ چکی ہیں۔
قدیم زمانہ کا انسان فطرت کو سادہ واقعات کا مجموعہ سمجھتا تھا، آج معلوم ہوا کہ وہ بے حد پیچیدہ اور انتہائی حکیمانہ اصولوں پر مبنی ہے۔ اس کا نظام اتنی محکم بنیادوں پر چل رہا ہے کہ ایک عظیم کارساز کو مانے بغیر اس کی کوئی توجیہہ ممکن نہیں۔ قدیم فلاسفہ یہ کہتے تھے کہ خدا جیسے ایک ازلی وجود کو ماننے کے بجائے ہم کیوں نہ اسی کائنات کو ازلی مان لیں ۔ مگر جدید تحقیقات (مثال کے طور پر بگ بینگ نظریہ) نے اس نقطہ نظر کو بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔ جدید سائنس نے دریافت کیا ہے کہ دنیا ایک وقت خاص میں پیدا کی گئی۔ گویا اب ایک ازلی و ابدی خالق کو مانے بغیر چارہ نہیں۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ کائنات کے اندر جو مختلف طبعی، کیمیاوی اور حیاتیاتی مظاہر ہیں، ان کو بہت سی الگ الگ
‹ Previous page Next page › Contents of July 1977 All issues