۴۔ غیر علمی طرز فکر کا خاتمہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۷، صفحہ ۱۳
فطری طاقتیں کنٹرول کر رہی ہیں۔ نیوٹن کے بعد ان طاقتوں کی گنتی تین تک آگئی: تجاذب، مقناطیسیت اور نیوکلیئر فورس۔ مگر حال میں ایٹم کے اندر جو جادوئی ذرہ (CHARMED PARTICLE) دریافت ہوا ہے، اس کے بعد تعدد کا نظریہ ختم ہو گیا ۔ اب یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ ایک ہی متحدہ طاقت ہے جو فطرت کے تمام عملوں کی ذمہ دار ہے۔ گویا شرک کے حق میں بنیاد ختم ہو گئی اور اب توحید کے سوا کوئی راستہ انسان کے لئے باقی نہیں رہا۔ زندگی بعد موت جس کو پہلے ناقابلِ ثبوت سمجھا جاتا تھا، اب اس کا سائنسی ثبوت فراہم ہونے لگا ہے۔ حتیٰ کہ غیر مذہبی علماء آج ایسی کتابیں لکھ رہے ہیں جن کا ٹائٹل ہوتا ہے: زندگی کے بعد زندگی (LIFE AFTER LIFE)
۴۔ غیر علمی طرز فکر کا خاتمہ
پچھلے تمام زمانوں میں غیر علمی یا توہماتی طرز فکر دنیا کے اوپر چھایا ہوا تھا۔ اس طرز فکر کا خاصہ ہے کہ وہ کسی بات کی گہری جانچ کے بغیر اس کو مان لیتا ہے۔ قدیم زمانہ میں اس غیر علمی طرز فکر نے لوگوں کو یہ موقع دے رکھا تھا کہ وہ آسانی سے اپنے لئے کوئی نہ کوئی ذہنی پناہ گاہ تلاش کرلیں جہاں وہ دین حق سے بھاگ کر چھپ سکیں ۔ فتح مکہ کے بعد جب کعبہ سے بتوں کو نکال کر توڑا جانے لگا تو اسلام کا یہ غلبہ دیکھ کر مکہ کے بت پرستوں کو فوراً توبہ کر لینی چاہئے تھی۔ مگر انھوں نے یہ کیا کہ وہ بستی چھوڑ کر پہاڑوں میں بھاگ گئے۔ ان کا یقین تھا کہ اب ضرور مکہ پر کوئی آفت آئے گی اور مسلمانوں کے استیصال کا جو کام وہ خود نہ کرسکے وہ ان کے بت انجام دے دیں گے۔ انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ اگر بتوں کے اندر طاقت ہوتی تو وہ مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہی کیوں ہونے دیتے۔ سائنسی انقلاب دراصل توہماتی طرز فکر کے بجائے واقعاتی غور و فکر کا نام تھا۔ کائناتی علم کا نظام چونکہ انتہائی اٹل بنیادوں پر چل رہا ہے۔ اس لئے فطری طور پر کائنات کی علمی ترقی نے تجزیاتی استدلال اور حقیقت پسندانہ تحقیق کا مزاج پیدا کیا۔ قدیم زمانہ میں لوگوں کو اپنی توہم پرستی اور غیر علمی اندازِ فکر کی وجہ سے ایک غیر واقعی بات کو مان لینے میں کوئی مشکل نہیں پیش آتی تھی۔ وہ نہایت آسانی کے ساتھ ایک بے بنیاد عقیدہ کو اس طرح اپنے ذہن میں جگہ دے سکتے تھے گویا وہ کوئی ثابت شدہ حقیقت ہے۔ مگر آج کا انسان حقیقت واقعہ سے کم سطح پر کسی چیز کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ اس ذہنی فضانے تاریخ میں پہلی بار تمام دروازے صرف دین حق کے لئے کھول دیئے ہیں کیونکہ اس کے سوا کوئی دین نہیں جو واقعاتی تجزیہ اور حقیقت پسندانہ معیار پر پورا اتر سکے۔
یہ نئی زمین جو اسلام کے حق میں تیار ہوئی ہے، مسلمان خود تو ابھی بہت کم اس سے فائدہ اٹھا سکے ہیں۔ البتہ اس سے پیدا شدہ ثمرات ان کو ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ مثال کے طور پر یہی چیز ہے جس نے اسلام کے مطالعہ کے لئے قدیم طرز کے استشراق کا خاتمہ کر دیا۔ صلیبی لڑائیوں کے بعد مسیحی یورپ نے اسلام کی تاریخ اور اس کی تعلیمات کو بالقصد بگاڑنا شروع کیا۔ صدیوں تک یہ کام جاری رہا۔ یہاں تک کہ سارا مغربی لٹریچر اس سے بھر گیا۔ سائنس کے ظہور سے پہلے لوگوں کو اس میں کوئی قابل اعتراض بات نظر نہ آتی تھی۔ مگر سائنس کے زور پر جو حقیقت پسندانہ طرز فکر پیدا ہوا، اس نے اس طریق مطالعہ کو بے معنی بنا دیا۔ قدیم استشراق کے خاتمہ کا یہ عمل تھامس کارلائل (۱۸۸۱ - ۱۷۹۵) کے زمانہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 1977 All issues