۴۔ غیر علمی طرز فکر کا خاتمہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۷، صفحہ ۵۶
بجے ٹھیک وقت پر گاڑی شور مچاتی ہوئی پلیٹ فارم میں داخل ہوگئی۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ موت بھی اسی قسم کی ایک سواری ہے جو اپنے مقررہ وقت پر خدا کی طرف اسے آتی ہے۔ کسی کے لئے وہ مخصوص سواری" ہوگی جس پر آرام سے بٹھا کر اعزاز واکرام کے ساتھ اس کو رب العالمین کی مہمانی کے لئے لے جایا جائے گا۔ کسی کے لئے وہ پولیس کی " کالی گاڑی " ہوگی جس کے تنگ و تاریک خول میں اس کو دھکا دے کر ڈال دیا جائے گا، اور کشاں کشاں خدا کی عدالت میں پہنچایا جائے گا تا کہ اس کے کبر اور سرکشی کی درد ناک سزا سے دی جائے۔ بجے ہم ملتان پہنچے۔ یہاں پہنچتے ہی جو پہلی خبر ملی وہ یہ کہ دو مسلم خاندان آپس میں لڑگئے۔ راستہ بھر قدرتی مناظر سے گزرتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا گویا یہ کتاب الہی کے بکھرے ہوئے اوراق ہیں جن کو پڑھتا ہوا میں ان کے درمیان سے گزر رہا ہوں۔ یہ ایک آفاقی نشر گاہ تھی جو خدائی پیغامات کو اس کی حسین ترین شکل میں نشر کر رہی تھی۔ لوگ حقیقت سے اتنے بے خبر کیوں ہیں جب کہ زمین و آسمان سے مسلسل حقیقت کا اعلان ہورہا ہے ۔ " میں نے سوچا " خدائی پیغام رسانی کا یہ کام اتنے حسین، اتنے ابدی اور اتنے آفاقی انداز میں ہورہا ہے کہ کوئی کان اس کو سننے سے محروم نہ رہے۔ کوئی آنکھ اس کے مشاہدہ سے خالی نہ رہے۔ پھر بھی کیوں ایسا ہے کہ لوگ اس کے سننے کے لئے بہرے ہیں اور آنکھیں اس کو دیکھنے کے لئے اندھی ہورہی ہیں ؟
درخت کہہ رہے ہیں کہ لوگوں کے لئے سایہ اور پھل کی مانند بنو۔ پھول کہہ رہے ہیں کہ ایسے بنو کہ تم کو دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور لوگوں کو تم سے خوشبو ملے ۔ چڑیاں کہہ رہی ہیں کہ خدا کی حمد کے نغمے گاؤ ۔ ہوائیں کہہ رہی ہیں کہ لوگوں کے بیچ سے اس طرح گزر جاؤ کہ تمھارا سفر بھی جاری رہے اور کسی کو تم سے تکلیف نہ پہنچے۔ پہاڑ کہہ رہے ہیں کہ لوگوں کے درمیان صبر اور تحمل کی چٹان بن کر رہو۔ آسمان کہہ رہا ہے کہ اپنے آپ کو اتنا اوپر اٹھالو کہ نفرت اور شکایت کی باتیں تم کو حقیر نظر آنے لگیں۔ اس قسم کی بے شمار آوازیں کائنات میں ہر آن ابھر رہی ہیں مگر وہ کسی کو سنائی نہیں دیتیں۔ خیال کا قافلہ یوں ہی چلتا رہا۔ یہاں تک کہ مجھے ایک حدیث یاد آئی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے شب قدر کا علم دیا گیا اور میں مسجد سے نکلا کہ لوگوں کو بتا دوں۔ اتنے میں دو مسلمان لڑگئے۔ اس لئے وہ علم اٹھالیا گیا ۔ (فتلاقى الرجلان فرفعت) گویا جب لوگ باہمی لڑائی جھگڑے کی سطح پر ہوں تو علم الہی کی روشنی ان سے دور ہو جاتی ہے۔ خدائی کلام کو سننے کے لئے ان کے کان بہرے ہوجاتے ہیں۔ معرفتِ خداوندی کا فیضان اسی قلب پر اترتا ہے جس کا دل دوسروں کے خلاف بغض وحسد سے خالی ہو، جس کا سینہ دوسروں کے خلاف نفرت کا کوڑا خانہ بنا ہوا ہو، اس میں علمِ خداوندی کو لے کر چلنے والے پاک فرشتے قدم نہیں رکھتے۔ ۹ اگست کی شام کو ہم بہتیڑ ضلع سوانی مادھوپور) پہنچے۔ یہ بستی دہلی سے تقریباً ۳۵۰ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ بہتیڑ اور ملار نا دونوں قریب قریب بستیاں ہیں جن کو صرف ایک پہاڑی راستہ جدا کرتا ہے ۔ دونوں ایک دوسرے کا بازو معلوم ہوتی ہیں۔ دونوں بستیوں میں کئی تقریریں ہوئیں ۔ ان تقریروں کا موضوع مختلف پہلوؤں سے ، خوفِ خدا اور فکرِ آخرت تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1977 All issues