Al-Risala · March 1977 · page 16

۹۔ وسائل کا خدا داد خزانہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۶

یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم صوفیا کو یوگ اور اشراق سے اس ذوق کے لئے تسکین فراہم کرنی پڑی اور متکلمین کو یونانی فلسفہ سے۔ قصاص کے گروہ نے اسی مقصد کے لئے بے شمار تعداد میں عجائب و غرائب قصے گھڑے اور ان کے ذریعہ اسلام کی ایک الف لیلہ تیار کر دی ۔

مگر اب صورتِ حال مکمل طور پر بدل گئی ہے۔ اب سائنس کے انقلاب کے بعد وہی زبان اور اسلوب وقت کا معیاری اسلوب قرار پا گیا ہے جو چودہ سو برس پہلے قرآن میں اختیار کیا گیا تھا۔ یہ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی مدد ہے۔ اب ہمیں نہ تو پہلے معنی قسم کی روحانی ورزشوں میں وقت ضائع کرنے کی ضرورت ہے اور نہ قصہ گوئی اور فلسفہ طراری کا کمال دکھانے کی۔ اب قرآن کی دعوت کو اس کے سادہ فطری اسلوب ہی میں لوگوں کے سامنے رکھا جا سکتا ہے۔ قرآن و حدیث کے سادہ ترجمے ، سیرتِ رسول ، اور حالاتِ صحابہ پر واقعاتی اسلوب میں لکھی ہوئی کتابیں اگر مختلف زبانوں میں مرتب کرکے دنیا بھر میں پھیلادی جائیں تو یہی اقوامِ عالم پر حجت قائم کرنے کے لئے کافی ہے۔

۹۔ وسائل کا خدا داد خزانہ

آخری بات یہ کہ موجودہ زمانہ میں علم کی ترقی اور پریس کی ایجاد نے دعوتی کام کی انجام دہی کے لئے لامتناہی امکانات کھول دیئے ہیں۔ حضرت مسیح کی آواز، آنجناب کے زمانہ میں فلسطین کے ایک قصبہ سے باہر نہ جاسکی ۔ مگر آج آپ کے پیرو بیک وقت دو ہزار سے بھی زیادہ زبانوں میں مسیحی مذہب کو منتقل کر رہے ہیں اور سارے عالم میں مسلسل اس کی آواز پہنچارہے ہیں۔ کل اور آج کا یہ فرق دراصل زمانہ کا فرق ہے۔ آج ایسے وسیع الاثر مواقع کھل گئے ہیں کہ زمین کے ایک گوشہ میں بیٹھ کر ساری دنیا میں دعوت کے کام کو منظم کیا جا سکتا ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ کی دنیا نے دعوت کے عمل کو مقامی پیغام رسانی کے دور سے نکال کر عالمی پیغام رسانی کے دور میں پہنچا دیا ہے۔ جدید صنعتی دور میں مسلمان اپنی اقتصادی پسماندگی کی وجہ سے اس قابل نہ رہے تھے کہ دعوتِ حق کی اشاعت کے لئے جدید امکانات کو اعلیٰ سطح پر استعمال کر سکیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے مسلم ملکوں میں پٹرول کے خزانے برآمد کر کے ان کی اقتصادی پسماندگی کی تلافی کر دی اور انھیں اس قابل بنا دیا کہ وہ اپنے اس فریضہ کی ادائگی کی بڑی سے بڑی قیمت دے کر بھی اس کو انتہائی کامل شکل میں جاری رکھ سکیں ۔

بجائے رب نے ہمارے لئے سیاسی اور فکری رکاوٹیں بھی دور کر دی ہیں اور اقتصادی رکاوٹیں بھی۔ اس سہ طرفہ نصرت کے بعد بھی مسلمان اگر دعوتی کام کے لئے نہ اٹھیں تو انھیں اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ وہ خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے ، خواہ دعوت کی ذمہ داری کو چھوڑ کر وہ کوئی دوسرا کام کتنی ہی بڑی مقدار میں کیوں نہ انجام دے رہے ہوں ۔ خاتمہ کلام قدیم زمانہ میں شرک (غیر اللہ کی فوق الفطری کبریا کی) کا عقیدہ غالب عقیدہ کی حیثیت رکھتا تھا جس طرح آج، مثال کے طور پر ، انسانی آزادی کے تصور نے ساری دنیا میں غالب عقیدہ کی حیثیت حاصل کرلی

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page