۹۔ وسائل کا خدا داد خزانہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۷
ہے ۔ اس صورتِ حال نے قدیم زمانہ میں بے شمار مصنوعی مسائل پیدا کر رکھے تھے جن میں سے ایک مسئلہ یہ تھا کہ توحید کے داعیوں کو آگ اور خون کے طوفان سے گزر کر حق کا پیغام دینا پڑتا تھا۔
پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو انقلاب آیا، اس نے شرک کو غالب عقیدہ کے مقام سے ہٹا دیا اس کے بعد ایک نیا تاریخی عمل شروع ہوا۔ آغازِ اسلام کے تقریباً ہزارویں سال اس انقلاب کے دو حصے ہو گئے ۔ اس کا مذہبی پہلو اسلامی دنیا میں محفوظ رہا۔ اور اس کا دنیوی پہلو اس سے الگ ہو کر مغربی دنیا کی طرف منتقل ہو گیا ۔ وہاں اس نے مزید ترقی شروع کی ، یہاں تک کہ ۱۹ ویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول کے زمانے میں وہ اپنے آخری کمال تک پہنچ گیا ۔ موجودہ زمانہ میں جمہوریت ، آزادی رائے ، سائنسی نقطہ نظر سب اسی کی مثالیں ہیں جو در حقیقت اسلامی انقلاب کے دنیوی پہلو یا اس کے سیکولر نتائج ہیں۔ اسلام کے زیر اثر پیدا شدہ اس انقلاب نے جدید دنیا میں اسلام کی توسیع واشاعت کے نئے دروازے کھول دیئے تھے۔ ایک طرف یہ ممکن ہو گیا تھا کہ توحید کی پیغام رسانی کے کام کو نہایت قوت کے ساتھ بالکل آزادانہ ماحول میں شروع کیا جا سکے ۔ دوسری طرف پریس اور جدید ذرائع ابلاغ نے تاریخ میں پہلی بار یہ امکان پیدا کیا تھا کہ اسلامی دعوت کی ہم کو عالمی سطح پر منظم کیا جا سکے ۔ مگر عین اس وقت ایک حادثہ پیش آیا ۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر اٹھنے والی تحریکوں نے دعوت کے بجائے سیاست کا رخ اختیار کر لیا ۔ وقت کے حکمرانوں سے ٹکرا کر انھوں نے اپنے لئے نئے عنوان سے وہی مشکلات پیدا کر لیں پیدا کر لیں جن کو اسلام کے ہزار سالہ عمل نے ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا تھا۔
اسلام کی تاریخ میں کوئی واقعہ اتنا المناک نہیں جتنا المناک یہ واقعہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اٹھنے والی تقریباً تمام اسلامی تحریکوں نے سیاسی مقابلہ آرائی کو کام سمجھا اور غیر ضروری طور پر اسلام کو اقتدار کے مد مقابل کھڑا کر دیا کسی تحریک نے شروع ہی سے میدان سیاست میں چھلانگ لگا دی ۔ کوئی بعد کو اس " مقدس جہاد کی طرف مڑ گئی__ ٹھیک اس وقت جب کہ تاریخ کا عمل اپنی آخری انتہا کو پہنچ کر ہمارے لئے دعوتی کام کا عالی شان میدان کھول رہا تھا ، ہم انتہائی نادانی کے ساتھ ایک ایسی سیاسی لڑائی میں مشغول ہو گئے جس کا کوئی نتیجہ مسلمانوں کو ملنے والا نہیں تھا ، نہ دینی نہ دنیوی ۔ اب اس غلطی کی واحد تلافی یہ ہے کہ سیاست بازی کو مکمل طور پر ترک کر کے قرآن وسنت کے پیغام کو اہل عالم تک پہنچانے کا کام فوراً شروع کر دیا جائے ۔ اپریل ۱۹۷۷ء میں جامعہ دارالسلام عمر آباد کی گولڈن جوبلی منائی گئی ۔ اس موقع پر ، ار اپریل کی نشست میں یہ مقالہ تلخصاً بہ شکل تقریر پیش کیا گیا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues