خواتین اسلام
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۸
" جو لوگ سونا چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور ان کو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انھیں سخت عذاب کی خوش خبری دے دو" (توبہ - ۳۴) قرآن کی یہ آیت اتری تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تبا للذھب تبا للفضنة (برا ہو سونے کا اور برا ہو چاندی کا)۔ یہ بات جب آپ کے اصحاب کو معلوم ہوئی تو وہ تشویش میں پڑ گئے، انھوں نے آپس میں کہا: فای مال نتخذ (اب ہم کون سا مال جمع کریں)۔ حضرت عمرؓ اس وقت وہاں موجود تھے، انھوں نے کہا، اگر تم لوگ پسند کرو تو میں اس کی بابت رسول اللہ سے سوال کر دوں۔ لوگوں نے کہا، ہاں۔ چنانچہ وہ آپ کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کے اصحاب کہہ رہے ہیں کہ کاش ہم جانتے کہ کون سا مال بہتر ہے تو ہم پاپہ روپیہ آپ کے پاس ہے اور وہی آپ کے پاس ہے اس کو جمع کرتے ۔ آپ نے فرمایا :
لیتخذ احد کم لسانا ذاکرا وقلبا شاکرا و زوجة مومنة تعین احد کم علی ایمانه تفسیر ابن کثیر ، جلد ۲ ، صفحه ۳۵۱ تہمت میں سے ہر ایک یہ کرے کہ یاد کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل اپنائے اور ایسی بیوی اختیار کرے جو اس کے ایمان میں اس کی مدد کرے ۔
خواتین اسلام
حضرت ام سلمہ ایک بار کسی عورت سے اپنے بال گندھوا رہی تھیں ۔ اتنے میں مسجد سے خطبہ کی آواز آئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ایھا الناس (اے لوگو) یہ سنتے ہی فرمایا، بس جیسے ہیں ویسے ہی باندھ دو، عورت نے کہا اتنی جلدی کیا ہے۔ ابھی تو آپ نے ایھا الناس کہا ہے۔ انھوں نے کہا ” خوب ! کیا ہمارا شمار آدمیوں میں نہیں یہ کہہ کر خود ہی بال باندھ کر کھڑی ہوگئیں اور قریب ہو کر خطبہ سننے لگیں۔ (طبقات ابن سعد) حضرت ام سلمہ کی مرویات کی تعداد ۳۷۸۳ ہے ۔ وہ فتویٰ بھی دیا کرتی تھیں۔ ابن قیم نے لکھا ہے کہ اگر ان کے فتوے جمع کئے جائیں تو ایک رسالہ تیار ہو جائے گا ۔
رسول اللہ ﷺ کی ازواج میں حضرت عائشہ سب سے زیادہ ذہین تھیں ، ان کی مرویات کی تعداد ۲۲۱۰ تک شمار کی گئی ہیں۔ ان سے تقریباً ایک سو صحابہ و تابعین نے روایت کیا ہے ۔ عروہ بن زبیر ، سعید بن مسیب ، عبد اللہ بن عامر، مروق بن اجدرع، عکرمہ اور علقمہ جیسے لوگ آپ کے شاگردوں میں شامل ہیں۔ حضرت عائشہ ایک اعلیٰ درجہ کی فقیہ خاتون تھیں ۔ جب کوئی حدیث بیان کرتیں تو اس کی علت وحکمت بھی بیان کر دیتیں ۔ حضرت ابوسعید اور حضرت عبداللہ بن عمر سے جمعہ کے غسل کے بارے میں صرف اس قدر مروی ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرنا چاہئے۔ مگر اسی حدیث کو حضرت عائشہ نے بیان کیا تو یہ بھی فرمایا کہ لوگ دور دور کی آبادیوں سے نماز جمعہ کے لئے مدینہ آتے تھے۔ وہ گردو غبار سے اٹے ہوتے اور پسینہ سے تر ہوتے۔ اس لئے آپ نے فرمایا کہ تم لوگ نہا لیا کرو۔
بنی غفار کی ایک عورت کہتی ہیں کہ میں اپنے قبیلہ کی کچھ عورتوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ آپ خیبر کے جہاد کے لئے روانہ ہو ر ہے تھے۔ ہم نے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues