خواتین اسلام
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۹
عرض کیا: اے خدا کے رسول ! ہم چاہتے ہیں کہ ہم بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ چلیں ، تاکہ ہم زخمیوں کی مرہم پٹی کریں۔ اور جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کی مدد کریں۔ آپ نے فرمایا: علی برکۃ اللہ (اللہ برکت دے، چلو)۔ انصاری خاتون ام عطیہ رضہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزودوں میں شرکت کی ہے، میں مجاہدوں کے کجاووں کی دیکھ بھال کے لئے پیچھے رہتی ، ان کے لئے کھانا پکاتی، زخمیوں کا علاج کرتی اور مصیبت زدوں کی نگرانی کرتی۔ اسماء بنت یزید بن سکن حضرت معاذ بن حبل کے چچا کی بیٹی تھیں۔ ان کی بابت حضرت مہاجرہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے جنگ یرموک میں خیمہ کی لکڑی سے نو رومیوں کو قتل کیا۔
مدینہ کے یہودیوں سے جنگ کے زمانہ کا واقعہ ہے۔ عورتوں اور بچوں کو ایک قلعہ کی چھت پر جمع کر کے حسان بن ثابت رضہ کو ان کی دیکھ بھال کے لئے وہاں رکھا گیا تھا۔ صفیہ بنت عبد المطلب بھی اسی قلعہ کی چھت پر تھیں۔ وہ کہہ نہ دے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب جنگ میں مشغول ہیں۔ پس اترو اور اس کو جاکر قتل کر دو۔ حسان بن ثابت نے کہا : واللہ لقد عرفت ما انا بصاحب هذا (خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ میں اس کام کا نہیں) وہ کہتی ہیں کہ جب انھوں نے مجھ کو یہ جواب دیا اور میں نے ان کے پاس مارنے کی کوئی چیز بھی نہ دیکھی، تو میں نے کمر سے کپڑا کسا اور ایک لکڑی ہاتھ میں لی۔ پھر قلعہ سے اتر کر اس کے پاس پہنچی اور اس لکڑی سے اس کو مارنا شروع کیا، یہاں تک کہ میں نے اس کو ہلاک کر دیا۔ پھر جب میں اس سے فارغ ہوگئی تو میں قلعہ میں واپس آئی اور حسان بن ثابت سے کہا کہ قلعہ سے اتر کر جاؤ اور اس کا سامان لاؤ۔ میں صرف اس لئے اس کا سامان اتارنے سے رک گئی کہ وہ مرد تھا، حسان بن ثابت نے کہا: اے عبد المطلب کی بیٹی! مجھے اس کے سامان کی ضرورت ہیں۔ (البدایہ والنہایہ، جلد چہارم، صفحه ۱۰۸) بیان کرتی ہیں کہ ہمارے قریب سے ایک یہودی گزرا۔ اور ہمارے قلعہ کا چکر لگانے لگا۔ اس وقت بنی قریضہ نے جنگ چھیڑ رکھی تھی ۔ اس وجہ سے ہمارے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان راستہ کٹ گیا تھا۔ اور وہاں کوئی نہیں تھا جو یہود کے مقابلہ میں ہماری مدافعت کرے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمان دشمن کے مقابلہ میں تھے ، وہ ان کو چھوڑ کر ہماری طرف نہیں آسکتے تھے۔ اتنے میں آنے والا یہودی سامنے سے گزرا۔ میں نے کہا اے حسان ! دیکھو یہ یہودی ہمارے قلعہ کا چکر لگا رہا ہے اور میں خدا کی قسم اس سے مامون نہیں۔ زندگی کیا ہے ، موت کی طرف ایک سفر۔
موت اس لئے آتی ہے تاکہ دوسری دنیا میں آدمی کی وہ مستقل زندگی شروع ہو جو دنیا کے عمل کے مطابق اچھی یا بری اسے گزارنی ہے۔
ہر شخص دوسروں کو اپنے سامنے اس انجام کی طرف جاتے ہوئے دیکھتا ہے مگر خود اس طرح زندگی گزارتا ہے ، گویا اس کو کبھی اس انجام سے دوچار ہونا نہیں پڑے گا۔ آہ وہ انسان ، جو اسی بات کو نہیں جانتا جس کو اسے سب سے زیادہ جاننا چاہئے۔
زیادہ جانا چاہیے ۔
کا چکر نگار ہاہے اور میں خدا کی قسم اس کے مامون ہیں۔ کہیں وہ ہماری اس غیر محفوظ حالت کو یہودیوں سے جاکر
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues